Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. نہیں قول سے فعل تیرے مطابقکہوں کس طرح تجھ کو اے یار صادقرند لکھنوی
  2. نیست بے یار مجھ کو ہستی ہےشہر ویراں اجاڑ بستی ہےرند لکھنوی
  3. وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکےظہور قدرت پروردگار دیکھ چکےرند لکھنوی
  4. ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطےکون مرتا ہے کسی کے واسطےرند لکھنوی
  5. یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤعیسیٰ کو ذرا حالت بیمار دکھاؤرند لکھنوی
  6. بس اب آپ تشریف لے جائیےجو گزرے گی مجھ پر گزر جائے گیرند لکھنوی
  7. آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھاگھبرا کے جو دم آج نکل جائے تو اچھارند لکھنوی
  8. اک پری کا پھر مجھے شیدا کیاعشق نے پھر مفسدہ برپا کیارند لکھنوی
  9. الفت نہ کروں گا اب کسی کیدشمن ہوا جس سے دوستی کیرند لکھنوی
  10. چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہلاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہرند لکھنوی
  11. حیران سی ہے بھچک رہی ہےنرگس کس گل کو تک رہی ہےرند لکھنوی
  12. زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہےہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہےرند لکھنوی
  13. ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیاآخر شب فراق میں نالہ نکل گیارند لکھنوی
  14. سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہواہنس کے بولے شاہ صاحب کس طرف آنا ہوارند لکھنوی
  15. صدمے گزرے ایذا گزریہجر میں تیرے کیا کیا گزریرند لکھنوی
  16. کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئےگاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئےرند لکھنوی
  17. اس جسم کی ہے پانچ عناصر سے بناوٹعقل‌ و دل و پندار کی ساری ہے بناوٹساحر دہلوی
  18. بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑکعبۂ دل مرا مست مئے پندار نہ توڑساحر دہلوی
  19. ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیںیہ راز فاش ہے ہاں سے نہیں میں ہاں میں نہیںساحر دہلوی
  20. تقوے کے لئے جنت‌ و کوثر ہوئے مخصوصرندی کے لئے شیشہ و ساغر ہوئے مخصوصساحر دہلوی
  21. جسد نے جان سے پوچھا کہ قلب بے ریا کیا ہےخطاب آیا کہ آئینہ میں جوہر کے سوا کیا ہےساحر دہلوی
  22. جلا ہے کس قدر دل ذوق کاوش ہائے مژگاں پرکہ سو سو نشتروں کی نوک ہے اک اک رگ جاں پرساحر دہلوی
  23. جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جاناسبکدوشی سمجھتا ہے وہ اس سودا میں سر جاناساحر دہلوی
  24. جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلبمرا مشرب ہے رندی رند کو مذہب سے کیا مطلبساحر دہلوی
  25. چار عنصر سے بنا ہے جسم پاکہیں یہ چاروں باد و آتش آب و خاکساحر دہلوی
  26. چشم مست ساقی سے دل ہوا خراب آبادمے کدہ ہے اور مستی اب تو ہرچہ بادا بادساحر دہلوی
  27. حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہواشعلۂ شمع تری بزم میں رقصاں نہ ہواساحر دہلوی
  28. درمیان جسم و جاں ہے اک عجب صورت کی آڑمجھ کو دل کی دل کو ہے میری انانیت کی آڑساحر دہلوی
  29. دل کو یکسوئی نے دی ترک تعلق کی صلاحاے امید وصل جاناں کیا ہے اب تیری صلاحساحر دہلوی
  30. دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہوناہے توکل بخدا بے سر و ساماں ہوناساحر دہلوی
  31. دل ہے بحر بیکراں دل کی امنگچار موج چار سو ہے چار رنگساحر دہلوی
  32. دیر و حرم ہیں منظر آئین‌ اختلافحق پر سدا نظر ہے مری حین‌ اختلافساحر دہلوی
  33. رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسےعشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسےساحر دہلوی
  34. سر عرش بریں ہے زیر پائے‌ پیر میخانہکمال اوج پر ہے حسن عالمگیر مے خانہساحر دہلوی
  35. صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیںمسمیٰ کو اسما میں ہم دیکھتے ہیںساحر دہلوی
  36. عیاں ہو رنگ میں اور مثل بو گل میں نہاں بھی ہوجہان جاں ہوئے گل پیرہن جان جہاں بھی ہوساحر دہلوی
  37. فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میریمکافات عمل سے دور ہے بیم و رجا میریساحر دہلوی
  38. کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیاحسن کو بے پردہ نام عشق کو رسوا کیاساحر دہلوی
  39. کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھاتو ہی تو تھا نہ تماشا نہ تماشائی تھاساحر دہلوی
  40. گویا زبان حال تھی ساحرؔ خموش تھایہ سعئ ضبط تھی وہ تقاضائے جوش جوش تھاساحر دہلوی
  41. مست نگاہ ناز کا ارماں نکالیےبے خود بنا کے بزم سے اے جاں نکالیےساحر دہلوی
  42. نشاں علم و ادب کا اب بھی ہے اجڑے دیاروں میںکہ سالمؔ اور مضطرؔ ہیں پرانی یاد گاروں میںساحر دہلوی
  43. نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئےپردہ‌ دار حسن یکتا چشم حیراں کیجئےساحر دہلوی
  44. وجود اب مرا لا فنا ہو گیافنا ہو کے جزو بقا ہو گیاساحر دہلوی
  45. ہیں سات زمیں کے طبق اور سات ہیں افلاکاس راز کے محرم ہیں مگر صاحب ادراکساحر دہلوی
  46. اے طینت عبث اب بدی سے باز آاے حسن ارادت اپنا جلوہ دکھلاساحر دہلوی
  47. میں نفس پرستی سے سدا خوار رہاظلمت کدۂ غم میں گرفتار رہاساحر دہلوی
  48. خجلت سے مرا جاتا ہوں کیا زندہ ہوںاعمال سے اپنے سخت شرمندہ ہوںساحر دہلوی
  49. عالم کا وجود ہے نمود بے بودہے آب سراب اس کی ہستی کی نمودساحر دہلوی
  50. لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفاتہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثباتساحر دہلوی