Poetry
Poet
Meter
- نہیں قول سے فعل تیرے مطابقکہوں کس طرح تجھ کو اے یار صادقرند لکھنوی
- نیست بے یار مجھ کو ہستی ہےشہر ویراں اجاڑ بستی ہےرند لکھنوی
- وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکےظہور قدرت پروردگار دیکھ چکےرند لکھنوی
- ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطےکون مرتا ہے کسی کے واسطےرند لکھنوی
- یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤعیسیٰ کو ذرا حالت بیمار دکھاؤرند لکھنوی
- بس اب آپ تشریف لے جائیےجو گزرے گی مجھ پر گزر جائے گیرند لکھنوی
- آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھاگھبرا کے جو دم آج نکل جائے تو اچھارند لکھنوی
- اک پری کا پھر مجھے شیدا کیاعشق نے پھر مفسدہ برپا کیارند لکھنوی
- الفت نہ کروں گا اب کسی کیدشمن ہوا جس سے دوستی کیرند لکھنوی
- چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہلاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہرند لکھنوی
- حیران سی ہے بھچک رہی ہےنرگس کس گل کو تک رہی ہےرند لکھنوی
- زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہےہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہےرند لکھنوی
- ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیاآخر شب فراق میں نالہ نکل گیارند لکھنوی
- سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہواہنس کے بولے شاہ صاحب کس طرف آنا ہوارند لکھنوی
- صدمے گزرے ایذا گزریہجر میں تیرے کیا کیا گزریرند لکھنوی
- کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئےگاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئےرند لکھنوی
- اس جسم کی ہے پانچ عناصر سے بناوٹعقل و دل و پندار کی ساری ہے بناوٹساحر دہلوی
- بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑکعبۂ دل مرا مست مئے پندار نہ توڑساحر دہلوی
- ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیںیہ راز فاش ہے ہاں سے نہیں میں ہاں میں نہیںساحر دہلوی
- تقوے کے لئے جنت و کوثر ہوئے مخصوصرندی کے لئے شیشہ و ساغر ہوئے مخصوصساحر دہلوی
- جسد نے جان سے پوچھا کہ قلب بے ریا کیا ہےخطاب آیا کہ آئینہ میں جوہر کے سوا کیا ہےساحر دہلوی
- جلا ہے کس قدر دل ذوق کاوش ہائے مژگاں پرکہ سو سو نشتروں کی نوک ہے اک اک رگ جاں پرساحر دہلوی
- جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جاناسبکدوشی سمجھتا ہے وہ اس سودا میں سر جاناساحر دہلوی
- جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلبمرا مشرب ہے رندی رند کو مذہب سے کیا مطلبساحر دہلوی
- چار عنصر سے بنا ہے جسم پاکہیں یہ چاروں باد و آتش آب و خاکساحر دہلوی
- چشم مست ساقی سے دل ہوا خراب آبادمے کدہ ہے اور مستی اب تو ہرچہ بادا بادساحر دہلوی
- حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہواشعلۂ شمع تری بزم میں رقصاں نہ ہواساحر دہلوی
- درمیان جسم و جاں ہے اک عجب صورت کی آڑمجھ کو دل کی دل کو ہے میری انانیت کی آڑساحر دہلوی
- دل کو یکسوئی نے دی ترک تعلق کی صلاحاے امید وصل جاناں کیا ہے اب تیری صلاحساحر دہلوی
- دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہوناہے توکل بخدا بے سر و ساماں ہوناساحر دہلوی
- دل ہے بحر بیکراں دل کی امنگچار موج چار سو ہے چار رنگساحر دہلوی
- دیر و حرم ہیں منظر آئین اختلافحق پر سدا نظر ہے مری حین اختلافساحر دہلوی
- رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسےعشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسےساحر دہلوی
- سر عرش بریں ہے زیر پائے پیر میخانہکمال اوج پر ہے حسن عالمگیر مے خانہساحر دہلوی
- صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیںمسمیٰ کو اسما میں ہم دیکھتے ہیںساحر دہلوی
- عیاں ہو رنگ میں اور مثل بو گل میں نہاں بھی ہوجہان جاں ہوئے گل پیرہن جان جہاں بھی ہوساحر دہلوی
- فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میریمکافات عمل سے دور ہے بیم و رجا میریساحر دہلوی
- کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیاحسن کو بے پردہ نام عشق کو رسوا کیاساحر دہلوی
- کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھاتو ہی تو تھا نہ تماشا نہ تماشائی تھاساحر دہلوی
- گویا زبان حال تھی ساحرؔ خموش تھایہ سعئ ضبط تھی وہ تقاضائے جوش جوش تھاساحر دہلوی
- مست نگاہ ناز کا ارماں نکالیےبے خود بنا کے بزم سے اے جاں نکالیےساحر دہلوی
- نشاں علم و ادب کا اب بھی ہے اجڑے دیاروں میںکہ سالمؔ اور مضطرؔ ہیں پرانی یاد گاروں میںساحر دہلوی
- نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئےپردہ دار حسن یکتا چشم حیراں کیجئےساحر دہلوی
- وجود اب مرا لا فنا ہو گیافنا ہو کے جزو بقا ہو گیاساحر دہلوی
- ہیں سات زمیں کے طبق اور سات ہیں افلاکاس راز کے محرم ہیں مگر صاحب ادراکساحر دہلوی
- اے طینت عبث اب بدی سے باز آاے حسن ارادت اپنا جلوہ دکھلاساحر دہلوی
- میں نفس پرستی سے سدا خوار رہاظلمت کدۂ غم میں گرفتار رہاساحر دہلوی
- خجلت سے مرا جاتا ہوں کیا زندہ ہوںاعمال سے اپنے سخت شرمندہ ہوںساحر دہلوی
- عالم کا وجود ہے نمود بے بودہے آب سراب اس کی ہستی کی نمودساحر دہلوی
- لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفاتہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثباتساحر دہلوی