Poetry
Poet
Meter
- حسن صورت میں گرچہ بود نہیںپر کہاں عشق کی نمود نہیںکشن کمار وقار
- خط کی رخسار پر سیاہی ہےچشم خوابیدہ خوش نگاہی ہےکشن کمار وقار
- دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایاکہ جو چوٹ پر صید آیا بٹھایاکشن کمار وقار
- دوستو حال دل زار ذرا اس سے کہوکم نہ ہو اس میں ذرا بلکہ سوا اس سے کہوکشن کمار وقار
- دیکھ کر مے منہ میں پانی شیخ کے بھر آئے گاچیز اچھی دیکھے گا مفلس کا جی للچائے گاکشن کمار وقار
- رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دناک شعلہ برق زن ہے سر طور رات دنکشن کمار وقار
- سوز پروانہ نور دین شمعتار زنار دل نشین شمعکشن کمار وقار
- سوز سے ساز کیا چاہئے ابنے سے آواز کیا چاہئے ابکشن کمار وقار
- عارض سے ترے بہار مقصودہے خط سے بنقشہ زار مقصودکشن کمار وقار
- عاشق گیسو دوتا ہوں میںآپ اپنے لیے بلا ہوں میںکشن کمار وقار
- عاشقی میں ہے جان کا کھٹکااور بھی کچھ برا بھلا کھٹکاکشن کمار وقار
- عشق ہے اس زلف کا سرتاج آجہے رسول حسن کی معراج آجکشن کمار وقار
- قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئےاپنے کو اپنے ہاتھ سے رسوا نہ کیجئےکشن کمار وقار
- قیس وہ ناتوان صحرا ہےکالبد نیستان صحرا ہےکشن کمار وقار
- کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑکبھی اے آہ دل منہ سے نکل پڑکشن کمار وقار
- کبھی بالوں کو سلجھایا تو ہوتامجھے شانے سے الجھایا تو ہوتاکشن کمار وقار
- کعبہ کو جائیں کس لیے اور کیوں کنشت کوپہونچیں یہیں سے بندگیاں سنگ و خشت کوکشن کمار وقار
- گاہ بسمل ہوں گہے تکبیر ہوںاپنی میں تدبیر کا تقدیر ہوںکشن کمار وقار
- گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئےدوست کا دل میں ہمارے تیر رہنے دیجئےکشن کمار وقار
- مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوںآج ایمان اپنا کھوتا ہوںکشن کمار وقار
- مرغ جاں کو زلف پیچاں جال ہےجال کیا اے جان جاں جنجال ہےکشن کمار وقار
- میں پا شکستہ کہاں طفل نے سوار کہاںپھر اس کی گرد کہاں اور مرا غبار کہاںکشن کمار وقار
- وہ بت بول اٹھے کسی بات میںخدا سے یہ مانگا مناجات میںکشن کمار وقار
- وہ مژہ مارتی کٹاری ہےچشم بددور زخم کاری ہےکشن کمار وقار
- ہو عید یا محرم ہم غم کیا کریں گےدو روزہ دہر دوں میں ماتم کیا کریں گےکشن کمار وقار
- ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتاارمان تڑپتے ہیں کہ قاتل نہیں ملتاکشن کمار وقار
- خود غلط وہ قول و فعل ان کا غلطخط غلط انشا غلط املا غلطکشن کمار وقار
- شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچاکہ قد یار کا مضمون ہے باندھا اونچاکشن کمار وقار
- کل کہاں بچاری بلبل اور کہاں بچارا گلآج بلبل دید کر لے باغ کی نظارہ گلکشن کمار وقار
- آج انکار نہ فرمائیے آپشب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپرند لکھنوی
- اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیزکعبہ سے بھی زیادہ ہے ہندوستاں عزیزرند لکھنوی
- تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنامیں دیکھ رہا ہوں مجھے اندھا نہ سمجھنارند لکھنوی
- توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکابس ہو چکا تقدس اسلام ہو چکارند لکھنوی
- تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھےوجہ کیا کھول کے صیاد نے پھر پر باندھےرند لکھنوی
- جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلےزبان قلم میں پڑیں آبلےرند لکھنوی
- چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہےبشدت قلق ہے نہایت تعب ہےرند لکھنوی
- چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کروربط ہر اک سے بڑھایا نہ کرورند لکھنوی
- خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئےگل مست ہے چمن میں پیالہ پیے ہوئےرند لکھنوی
- دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتاکیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتارند لکھنوی
- دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دےمان کہنا تیرے صدقے تیرے قرباں چھوڑ دےرند لکھنوی
- دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہےایک دن جانتے ہیں خاتمہ بالخیر تو ہےرند لکھنوی
- رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لوبات کرتے نہیں سلام تو لورند لکھنوی
- زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کادیکھیے کس کس کو ڈستا ہے یہ جوڑا سانپ کارند لکھنوی
- عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایاکوئی جوڑ مجھ پر مقرر بنایارند لکھنوی
- قبر پر ہوویں دو نہ چار درختایک کافی ہے سایہ دار درخترند لکھنوی
- گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریںجو بات مانو تو منت ہزار بار کریںرند لکھنوی
- مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقیبھر دے چلو میں جو ہو شیشے میں باقی ساقیرند لکھنوی
- مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہےغرض ہاتھ دونوں سے دھونا پڑا ہےرند لکھنوی
- منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لیدیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لیرند لکھنوی
- نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہارینہیں پاس کوئی نشانی تمہاریرند لکھنوی