عجیب نقش بناتے ہوا گزرتی ہے
Danish Hayat (b. 1994)عجیب نقش بناتے ہوا گزرتی ہے
کہ خد و خال مٹاتے ہوا گزرتی ہے
سکوت پھیلنے لگتا ہے میرے چاروں طرف
پھر ایک شور مچاتے ہوا گزرتی ہے
ہماری خاک اڑانے سے کچھ نہیں ہوگا
ہماری خاک اڑاتے ہوا گزرتی ہے
گلی میں چلتے ہوئے اک فقیر نے کل شب
بتا دیا جو بتاتے ہوا گزرتی ہے