سوال کرتی ہوئی رات کے علاوہ ہے

Danish Hayat (b. 1994)

سوال کرتی ہوئی رات کے علاوہ ہے

کہ مجھ میں کوئی مری ذات کے علاوہ ہے

یہ اشک اور کسی عشق کی کرامت ہیں

یہ مات اور کسی مات کے علاوہ ہے

یہ کون کن کی حقیقت بتا رہا ہے مجھے

یہ کس کا ہاتھ مناجات کے علاوہ ہے

مجھے خبر ہے کہ گردش میں ہیں یہ کون و مکاں

مگر یہاں کوئی دن رات کے علاوہ ہے

یہ آس پاس کا سارا علاقہ ہے گھائل

کہ دل کا خطہ مضافات کے علاوہ ہے

یہ اندروں کی چمک ہے کہ ہے ید بیضا

کہ اس میں جو ہے کرامات کے علاوہ ہے