خواب دکھائے جائیں گے تعبیر بنائی جائے گی
Danish Hayat (b. 1994)خواب دکھائے جائیں گے تعبیر بنائی جائے گی
نقش سمیٹے جائیں گے تصویر بنائی جائے گی
پہلے کوزہ گر مورت منسوب کرے گا رانجھے سے
پھر اس کی ٹیڑھی پسلی سے ہیر بنائی جائے گی
بچپن ہی سے ذہنوں میں اک خوف بٹھا کر رکھیں گے
اور ہاتھوں پر پنسل سے زنجیر بنائی جائے گی
پہلے پہل تو ماتھے ان کے غور سے دیکھے جائیں گے
آڑی ٹیڑھی شکنوں پر تقدیر بنائی جائے گی