ترا چہرا اگر اترا ہوا ہے
Danish Hayat (b. 1994)ترا چہرا اگر اترا ہوا ہے
یہاں پر کچھ ہے جو اوچھا ہوا ہے
تمہارے ریشمی آنچل کا دھاگہ
ہمارے ہاتھ سے الجھا ہوا ہے
اداسی پیڑ پر یوںہی نہیں ہے
پرندوں سے کہیں جھگڑا ہوا ہے
کسی تعویذ کی صورت وہ وعدہ
ہمارے ہاتھ پر باندھا ہوا ہے
فقط اک دل پہ مت آنسو بہاؤ
بہت کچھ جسم میں ٹوٹا ہوا ہے
سدھرنے کا مجھے تم کہہ رہے ہو
کوئی ٹیڑھا کبھی سیدھا ہوا ہے