شعلے بھڑک رہے ہیں
Sabeela Inam Siddiqui (b. 1994)شعلے بھڑک رہے ہیں
عناد و فساد کے
اس دور آگہی میں
تو جینا عذاب ہے
مکر و فریب کا یہاں ہے
جال سا بچھا
سچ کا یہاں تو رہنا ہی
مطلق حرام ہے
تازہ ہوا بھی کیسے ملے
نسل نو کو جب
آب و ہوا میں پھیلی بو
آلودگی سی ہو
منظر یہ سارے دیکھ کے
آنکھیں برس پڑیں
ہے جان کی اماں نہ ہی
محفوظ مال و زر
یا رب دعا ہے رات کی
کالی گھٹا ہٹے
ہو جائیں بارشیں یہاں
انوار سحر کی
صورت نظر میں آئے
کسی چارہ گر کی اب
یہ آنکھ منتظر ہے
کسی انقلاب کی