کس موڑ پر لے آئے ہیں یادوں کے سلسلے

Danish Hayat (b. 1994)

کس موڑ پر لے آئے ہیں یادوں کے سلسلے

اب جو بھی چاہے ہم کو وہ جس سمت لے اڑے

یوں درد نے رکھا مرے سینے پہ اک قدم

جیسے تمام ہو گئے چاہت کے مرحلے

وہ چھوڑ کر گیا جو مرے دل کے شہر کو

اس شخص کی تلاش میں رستے نکل پڑے

اس بھول جانے والے کو آئیں گے یاد ہم

ڈھکن نہیں کھلیں گے جبھی مرتبان کے

دیمک زدہ درخت کے سائے میں بیٹھ کر

اس نے تمام دکھ مری جھولی میں رکھ دئے