پورے مجمع کو لاجواب کیا
Aamir Ata (b. 1994)پورے مجمع کو لاجواب کیا
حسن پر اس نے جب خطاب کیا
عمر بھر پھر نہیں ہوئے ناکام
تو نے جس جس کو کامیاب کیا
تیرے جاتے ہی کھل گئیں آنکھیں
نیند آدھی کی پورا خواب کیا
حال اچھا تھا اب تلک میرا
پوچھ کر تو نے سب خراب کیا
احتراماً سبھی خطوط ترے
جا کے ساحل پہ غرق آب کیا
صفر بچتا ہے دل کے خانے میں
میں نے خوشیوں کا جب حساب کیا
شکر صد شکر ایسی غربت کا
جس نے اپنوں کو بے نقاب کیا
لگ گئی اس کی نوکری جس نے
جی حضور اور جی جناب کیا