فلک سے گر بلائیں آ رہی ہیں
Danish Hayat (b. 1994)فلک سے گر بلائیں آ رہی ہیں
ذرا ٹھہرو دعائیں آ رہی ہیں
میں سمجھا تھا کہ مٹ جائیں گی یادیں
مگر تازہ ہوائیں آ رہی ہیں
یہاں اک باغ تھا بستی سے پہلے
پرندوں کی صدائیں آ رہی ہیں
جو پوچھا قیس نے لیلیٰ کہاں ہے
کہا تشریف لائیں آ رہی ہیں