عین ممکن ہے اذیت سے نکل آئیں گے
Danish Hayat (b. 1994)عین ممکن ہے اذیت سے نکل آئیں گے
ہم ترے بعد محبت سے نکل آئیں گے
تم بھی دیکھو کبھی دیوار تک آیا ہوا دشت
آبلے آنکھ میں وحشت سے نکل آئیں گے
ہم بھی پھر گھر سے نکل آئیں گے سیٹی لے کر
اور پرندے بھی شرارت سے نکل آئیں گے
دوست کانٹوں کو بچھاتے ہوئے تھک جائیں گے
اور ہم لوگ مہارت سے نکل آئیں گے
ساتھ چھوڑیں گے نہیں ہم ترا آدم کی طرح
پیچھے پیچھے ترے جنت سے نکل آئیں گے