درد ہی سے فقط بنی ہو کیا
Yamit Punetha Zaif (b. 1990)درد ہی سے فقط بنی ہو کیا
زندگی اتنی ہی بری ہو کیا
تم سے اتنا لگاؤ کیوں ہے مجھے
تم مری روح میں بسی ہو کیا
حال دل تو چھپا چکا تھا میں
تم مری آنکھیں پڑھ رہی ہو کیا
گاؤں کب کا اجڑ گیا بھائی
شہر سے لوٹے ہی ابھی ہو کیا
چبھ رہی ہیں یہ دھڑکنیں بھی اب
دل کے ٹکڑے ہی کر گئی ہو کیا
دوسرے کتنے مل گئے ہوں گے
اب اسے میری ہی کمی ہو کیا
ہو گئی ہے تو مان لے غلطی
تیری ہر بات اب سہی ہو کیا
اشک کاغذ بھگو رہے ہیں کیوں
زیفؔ کی نظم پڑھ رہی ہو کیا