آج سخن کی شام کریں گے

Om Bhutkar Maghloob (b. 1991)

آج سخن کی شام کریں گے

اپنے غم نیلام کریں گے

بدنامی ہی اک ذریعہ ہے

ورنہ ہم کیا نام کریں گے

کام ہمیں آرام کا دینا

ورنہ پھر آرام کریں گے

تم ہی سوچو ہم جیسے کیا

ایسے ویسے کام کریں گے

چست رہے گی اپنی سستی

قبر میں بھی آرام کریں گے

دیکھو زندہ رہنے والے

دل دکھ کا گودام کریں گے

لوگ تو جینے یا مرنے کی

ہر کوشش ناکام کریں گے

ہم مرنے سے پہلے دکھ کی

دولت تیرے نام کریں گے

فنکاروں کو تو عادت ہے

جو کچھ خاص ہے عام کریں گے