اپنی آنکھوں سے نہ شوخی یوں نہ شوخی شوخی
Om Bhutkar Maghloob (b. 1991)اپنی آنکھوں سے نہ شوخی یوں نہ شوخی شوخی
ہے ابھی آگ بجھی پھر نہ لگاؤ شوخی
بجھ گئے اپنی محبت کے دیے اب تو بس
نفرتیں آنکھ کی آپس میں دکھاؤ شوخی
باغ میں پھول کھلے آئے کبھی بلبل تو
اب کے مجھ سے نہ کہو دوڑ کے آؤ شوخی
اس کے ہو جس کے میں بس ذکر پہ بھی کہتا تھا
پھر کبھی نام بھی اس کا جو لیا تو شوخی
ان سے مغلوبؔ کہیں دل کی حقیقت کیسے
وہ تو ہر عیب پہ چلاتے ہیں شوخی شوخی