راز کتنے دبا گئی مٹی
Yamit Punetha Zaif (b. 1990)راز کتنے دبا گئی مٹی
اچھے اچھوں کو کھا گئی مٹی
عمر بھر کا جگا ہوا تھا میں
آخرش کام آ گئی مٹی
خاک میں غرق ہو کے کون آیا
جسم سب کے گلا گئی مٹی
آج مرنے کی ضد مجھے کیوں ہے
ایسا کیا ہے جو بھا گئی مٹی
ڈھونڈھ پائے گا کون اب مجھ کو
نقش پا میرے کھا گئی مٹی
میں سمایا ہوں زیفؔ مٹی میں
اور مجھ میں سما گئی مٹی