تمہاری گفتگو سے ہم کوئی مصرع نکالیں گے

Faisal Khayyam (b. 1990)

تمہاری گفتگو سے ہم کوئی مصرع نکالیں گے

ہمیں دفتر میں آ کر بھی یہی محسوس ہوتا ہے

ابھی اسکول لگ جائے گا اور بستہ نکالیں گے

تمہاری آنکھ سے تنکا نکالا جائے گا پہلے

ہم اس کے بعد اپنے پیر سے کانٹا نکالیں گے

جنہیں تم قہقہوں اور تالیوں سے داد دیتے ہو

تماشا ختم ہونے پر یہی کاسہ نکالیں گے

محبت کا یہ پہناوا ہمارے تن پہ سجنا ہے

ہم اس کرتے کی کف سے فالتو دھاگہ نکالیں گے

تمہاری فیض یابی کی سبیلیں لگ گئیں فیصلؔ

جنہیں کھڑکی کی حاجت تھی وہ دروازہ نکالیں گے