ہے اتنا مختصر قصہ ہمارا

Vijay Rahi (b. 1990)

ہے اتنا مختصر قصہ ہمارا

یہاں کوئی نہیں اپنا ہمارا

یہاں تم جو یہ صحرا دیکھتے ہو

یہ ہوتا تھا کبھی دریا ہمارا

گزرتے ہیں تیرے کوچہ سے اب بھی

بدلتا ہی نہیں رستا ہمارا

یہی ڈر ہم کو کھائے جا رہا ہے

تمہارے بعد کیا ہوگا ہمارا

کبھی اپنے ہی دل سے پوچھ لینا

تمہارے پاس ہے کیا کیا ہمارا