گفتار میں چھلکا تری نمکین باتوں کا نمک

Yamit Punetha Zaif (b. 1990)

گفتار میں چھلکا تری نمکین باتوں کا نمک

تیری اجازت ہو تو چکھ لوں تیرے ہونٹھوں کا نمک

گر دیکھیے تو اب وہاں گلزار پیدا ہو گئے

جس جا چھڑک آیا تھا میں پیروں کے چھالوں کا نمک

بھوکے رہے لیکن کسی کے آگے پھیلایا نہ ہاتھ

ہرگز نہیں کھایا کبھی غربت میں غیروں کا نمک

مجھ کو رلانے والے تیری ہر خوشی قائم رہے

میری دعا ہے تو کبھی چکھے نہ اشکوں کا نمک

پیتا ہوں دھو کر زیفؔ تو اس میں غلط کیا ہے بتا

مجھ کو تبرک لگتا ہے یہ ماں کے پیروں کا نمک