ادھ بجھی سگرٹیں پڑی ہوئی ہیں
Umr Daraz Hashir (b. 1990)ادھ بجھی سگرٹیں پڑی ہوئی ہیں
رائیگاں کوششیں پڑی ہوئی ہیں
دشت میں کس نے شب گزاری ہے
ریت پر سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں
چل رہا ہوں جو میں سہولت سے
سینکڑوں ٹھوکریں پڑی ہوئی ہیں
میں نے دیکھا ہے اک جہنم میں
کتنی ہی جنتیں پڑی ہوئی ہیں
عشق ہے تجھ سے یا مجھے تیری
عادتاً عادتیں پڑی ہوئی ہیں