تنہائی سے جب اکتا کے بیٹھ گیا

Vijay Rahi (b. 1990)

تنہائی سے جب اکتا کے بیٹھ گیا

میں پھر میخانے میں آ کے بیٹھ گیا

پتھر کو پتھر ہی اچھے لگتے ہیں

سو اپنے طبقے میں جا کے بیٹھ گیا

آج گلی سے میں نے دیکھا تھا اس کو

چندہ چھت پر ہی شرما کے بیٹھ گیا

سانجھ ڈھلی تو ہم بھی اپنے گھر آئے

سایا پاس ہمارے آ کے بیٹھ گیا

آخر ایک چراغ نے ایسی کیا ٹھانی

دیکھو آگے آج ہوا کے بیٹھ گیا

لوگوں نے پوچھا جب اس کے بارے میں

راہیؔ اپنی نظم سنا کے بیٹھ گیا