اسی لئے ہمیں احساس بے وفائی نہیں

Faiz Khalilabadi (b. 1980)

اسی لئے ہمیں احساس بے وفائی نہیں

ہمارے پاس ہیں کنگن کوئی کلائی نہیں

یہی سبب ہے کہ بے رنگ ہو گئے سب خواب

ہماری آنکھوں میں کاجل تھا روشنائی نہیں

محبتوں کے سفر میں محبتوں کے سوا

ہمارے پاس کوئی دوسری کمائی نہیں

اس اک نگاہ کا طرز بیان ایسا تھا

کسی کی بات ہماری سمجھ میں آئی نہیں

چمک ہے اس کے ہر اک مصرعۂ بدن پہ مگر

مری غزل کو کوئی دیتا منہ دکھائی نہیں

ہم اپنے عہد کے سقراط ہیں ہمارے یہاں

کوئی بھی گفتگو ہوگی ہوا ہوائی نہیں

وہاں پہنچ کے بھی حاصل ہوا ہے فیضؔ مجھے

جہاں کسی سے مری کوئی آشنائی نہیں