جتن سے رکھ ہمیں جب تک کہ با حیات ہیں ہم
Faiz Khalilabadi (b. 1980)جتن سے رکھ ہمیں جب تک کہ با حیات ہیں ہم
ترے بدن کی ریاست کے کاغذات ہیں ہم
ہمیں خریدا تھا سونے کے بھاؤ میں جس نے
اب اس کی نظروں میں پیتل کے زیورات ہیں ہم
تعلقات کا نشہ اتر چکا ہے مگر
ابھی بھی لگتا ہے ہم کو تمہارے ساتھ ہیں ہم
جسے سمجھ کے تجھے عشق کا ہنر آیا
اسی کتاب محبت کی لفظیات ہیں ہم
اسی نے رکھا ہے بے لطف حاشیے پہ ہمیں
وہ جس قبیلے کی اصلی ضروریات ہیں ہم
ہمیں فضول اداروں پہ خرچ مت کرنا
محبتوں کے سفر سے ملی زکوٰۃ ہیں ہم