نیا ادب نئے آداب کون دیکھے گا

Faiz Khalilabadi (b. 1980)

نیا ادب نئے آداب کون دیکھے گا

ہمارا حلقۂ احباب کون دیکھے گا

میں اس خیال سے دو چار ہوں کئی دن سے

تمہارے بعد مرے خواب کون دیکھے گا

تمہارے ہاتھوں پروسا گیا محبت سے

وہ جام جم ہے کہ تیزاب کون دیکھے گا

تمہارے بننے کی سب لوگ داد دیں گے مگر

مرے بگڑنے کے اسباب کون دیکھے گا

یہاں سبھی ہیں ترے جھیل سے بدن کے مرید

ہماری روح کا تالاب کون دیکھے گا

مسرتوں کے چراغوں میں نور ہے جب تک

کسی اداسی کا محراب کون دیکھے گا