نہ جانے کس کے سہارے بدن سے لگ گیا ہے

Faiz Khalilabadi (b. 1980)

نہ جانے کس کے سہارے بدن سے لگ گیا ہے

تمہارا روگ ہمارے بدن سے لگ گیا ہے

اداسیوں کا جو کیڑا تھا ذہن تک محدود

ذرا سی چوک سے سارے بدن سے لگ گیا ہے

ہمیں بھی ملنے لگی احتیاط کی خوراک

مرض مٹھاس کا سارے بدن سے لگ گیا ہے

جگہ جگہ پہ خراشوں کی فصل اگ آئی

دکھوں کا دیو بے چارے بدن سے لگ گیا ہے

وہ خواب جس کی ہوئی پرورش مرے ہاتھوں

وہ دوسروں کے کنوارے بدن سے لگ گیا ہے

پہن کے گھوم رہے ہو اداسیوں کا لباس

یہ کون ہے جو تمہارے بدن سے لگ گیا ہے