نیا سخن نئے طرز سخن میں رکھ دیا ہے
Faiz Khalilabadi (b. 1980)نیا سخن نئے طرز سخن میں رکھ دیا ہے
جو بے وطن تھے انہیں بھی وطن میں رکھ دیا ہے
ہماری آنکھوں کی لذت کا دھیان رکھتے ہوئے
کسی کا عکس کسی کے بدن میں رکھ دیا ہے
میں جس خوشی کے تعاقب میں تھا اسی نے مجھے
اداسیوں کے نئے پیرہن میں رکھ دیا ہے
وہ رنگ جس پہ چھڑکتی ہے جان ہر تتلی
مرے خدا نے مرے آچرن میں رکھ دیا ہے
سبھی نے اپنی سیاست کے خواب کا ملبہ
ہماری آنکھوں کے سنسد بھون میں رکھ دیا ہے
لبوں سے اپنے تبسم نچوڑ کر اس نے
کئی گلوں کو الگ بانکپن میں رکھ دیا ہے