Poetry
Poet
Meter
- محبت رت جگے آوارہ گردیضروری کام سارے ہو رہے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ہو گئے پھر تم کہیں آباد کیاہل گئی تنہائی کی بنیاد کیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- یہ نادانی نہیں تو کیا ہے دانشؔسمجھنا تھا جسے سمجھا رہا ہوںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- آخر ایسی بھی کیا خطا ہے مریکتنی تکلیف دہ سزا ہے مریRaakesh ulfat (b. 1961)
- اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پرہمیں بھی ناز ہے اپنے سروں پرRaakesh ulfat (b. 1961)
- الجھا ہوا بہت ہے فسانہ حیات کاتم کیا سمجھ سکو گے بیاں میری ذات کاRaakesh ulfat (b. 1961)
- بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتیتو مجھ سے دور تھی دو ہاتھ کیسے نیند آتیRaakesh ulfat (b. 1961)
- تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کوسبھی کے سامنے اپنے گلے لگا مجھ کوRaakesh ulfat (b. 1961)
- تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہےمگر یہ لمحہ بڑا کامیاب لگتا ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
- تیرا دل بھی مرے دل جیسا اگر ہو جائےکتنا آساں مرے جیون کا سفر ہو جائےRaakesh ulfat (b. 1961)
- جب جب انا کے ہاتھ میں پتوار آ گئیکشتی ڈبونے والی کوئی دھار آ گئیRaakesh ulfat (b. 1961)
- جو سایہ سا منور تھا مرے ساجن کا تھوڑا تھامقدر یوں ابھی روشن مرے آنگن کا تھوڑا تھاRaakesh ulfat (b. 1961)
- چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میںیہ نہ سمجھو کہ بے خبر ہوں میںRaakesh ulfat (b. 1961)
- چراغ لے کے ہتھیلی پہ چل سکو گے کیاگھنا اندھیرا ہے باہر نکل سکو گے کیاRaakesh ulfat (b. 1961)
- کہہ دو دل میں جو بات باقی ہےیہ نہ سوچو کہ رات باقی ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
- کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیںمیرے دل میں تو سبھی کے غم ہیںRaakesh ulfat (b. 1961)
- مرا فخر حیاتی آج بھی کردار ہے میرااسی نگ سے مزین طرۂ دستار ہے میراRaakesh ulfat (b. 1961)
- میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتےمگر یہ سچ ہے کہ سب ایک سے نہیں ہوتےRaakesh ulfat (b. 1961)
- وقت جب طے ہے تو پھر غم کیساآپ زندہ ہیں تو ماتم کیساRaakesh ulfat (b. 1961)
- یہ بھول جاؤ کہ ڈر جائے گی مری خوشبوہر ایک سمت کو مہکائے گی مری خوشبوRaakesh ulfat (b. 1961)
- پانی ہلا نہیں ہے ابھی بھی ہے جوں کا توںپتھر تو ایک پھینک کے دیکھا ضرور ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
- تمہارے حصہ کے جتنے بھی غم ہیں میں لے لوںمرے نصیب کی ہر اک خوشی ملے تم کوRaakesh ulfat (b. 1961)
- اک خلا، ایک لا انتہا اور میںکتنے تنہا ہیں میرا خدا اور میںIftikhar Mughal (b. 1961)
- تمہیں بھی چاہا، زمانے سے بھی وفا کی تھییہ نگہ داری جنوں نے جدا جدا کی تھیIftikhar Mughal (b. 1961)
- جمال گاہ تغزل کی تاب و تب تری یادپہ تنگنائے غزل میں سمائے کب تری یادIftikhar Mughal (b. 1961)
- رخصت یار کا مضمون بمشکل باندھادل نہ بندھتا تھا کسی طور بڑا دل باندھاIftikhar Mughal (b. 1961)
- رکھ رکھاؤ میں کوئی خوار نہیں ہوتا یاردوست ہوتے ہیں، ہر اک یار نہیں ہوتا یارIftikhar Mughal (b. 1961)
- سواد ہجر میں رکھا ہوا دیا ہوں میںتجھے خبر نہیں کس آگ میں جلا ہوں میںIftikhar Mughal (b. 1961)
- کبھی کبھی تو یہ حالت بھی کی محبت نےنڈھال کر دیا مجھ کو تری محبت نےIftikhar Mughal (b. 1961)
- کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میںتو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میںIftikhar Mughal (b. 1961)
- کوئی وجود ہے دنیا میں کوئی پرچھائیںسو ہر کوئی نہیں ہوتا کسی کی پرچھائیںIftikhar Mughal (b. 1961)
- میں بھی بے انت ہوں اور تو بھی ہے گہرا صحرایا ٹھہر مجھ میں یا خود میں مجھے ٹھہرا صحراIftikhar Mughal (b. 1961)
- اپنے آپ کو یوں سمجھاتے رہتے ہیںامیدوں کے پر سہلاتے رہتے ہےDeepak Jain Deep (b. 1961)
- ادھورا ہی رہے ہر راستہ تونا پہنچے منزلوں تک سلسلہ توDeepak Jain Deep (b. 1961)
- ایسے درکنار ہو گئےحاشیے کے پار ہو گئےDeepak Jain Deep (b. 1961)
- تیرے جلووں نے کیسی شرط رکھ دیکی خوشبو دیکھنے کی شرط رکھ دیDeepak Jain Deep (b. 1961)
- تیرے در تک آؤں میںآئینہ ہو جاؤں میںDeepak Jain Deep (b. 1961)
- شام سے ضد پر اڑے ہیںخواب پلکوں پر کھڑے ہیںDeepak Jain Deep (b. 1961)
- کھونے کا ملال رہ گیاآئنے میں بال رہ گیاDeepak Jain Deep (b. 1961)
- یہ اس کی نیند کو کیا ہو گیا ہےمری آنکھوں میں شب بھر جاگتا ہےDeepak Jain Deep (b. 1961)
- تری دلبری سلامت مرے غم کا بول بالامری آتش دروں سے ترے گھر میں ہے اجالاDaulat Ram Sabir Panipati (b. 1961)
- جان دی جس کے لیے اس کو خبر کوئی نہیںاب کھلا مجھ پر کہ مر مٹنا ہنر کوئی نہیںDaulat Ram Sabir Panipati (b. 1961)
- دیا فریب تمنا کو ہر گھڑی میں نےمراد من کی نہ پائی مگر کبھی میں نےDaulat Ram Sabir Panipati (b. 1961)
- یہ کیوں سوچیں کہ وہ داد وفا دیتے تو کیا ہوتاجو رونے پر بھی پابندی لگا دیتے تو کیا ہوتاDaulat Ram Sabir Panipati (b. 1961)
- آج کے ماحول میں انسانیت بدنام ہےیہ عناد باہمی کا ہی فقط انجام ہےDaood Mohsin (b. 1962)
- اب بھی اپنا خیال رکھا ہےہم نے ایماں سنبھال رکھا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
- ابھی ہے ان کی جفاؤں کی اک چبھن باقیفغاں و نوحہ گری کی ہے کچھ اگن باقیDaood Mohsin (b. 1962)
- اک جنوں بے مثال چاہتا ہوںبس تمہارا خیال چاہتا ہوںDaood Mohsin (b. 1962)
- تخم نفرت بو رہا ہے آدمیآدمیت کھو رہا ہے آدمیDaood Mohsin (b. 1962)
- چاندی کی ناؤ سونے کی پتوار دیکھ کرخود کو ڈبونے آ گئے منجھدار دیکھ کرDaood Mohsin (b. 1962)