چاندی کی ناؤ سونے کی پتوار دیکھ کر
Daood Mohsin (b. 1962)چاندی کی ناؤ سونے کی پتوار دیکھ کر
خود کو ڈبونے آ گئے منجھدار دیکھ کر
بس اک نگاہ ناز عجب کام کر گئی
جیتا ہوں ان کی آنکھوں میں اقرار دیکھ کر
اشکوں میں ڈھل کے بہہ گیا کاجل شب فراق
وہ یوں مچل گیا مرے اشعار دیکھ کر
جس کی مروتوں کا بھروسہ نہیں کوئی
بکتا ہے کون ایسا خریدار دیکھ کر
قائم ہے اس طرح مرا عزم سفر ابھی
چلتا رہا ہوں وقت کی رفتار دیکھ کر
اے پیکر طلسم تری سحر کاریاں
ڈرتا ہوں تیرے حسن کا شہکار دیکھ کر
مارا ہوا ہے آج بھی محسنؔ خلوص کا
دل ہارتا ہے وہ نگہ یار دیکھ کر