آخر ایسی بھی کیا خطا ہے مری

Raakesh ulfat (b. 1961)

آخر ایسی بھی کیا خطا ہے مری

کتنی تکلیف دہ سزا ہے مری

تیرے مذہب میں آستھا ہے مری

تو بھی سیکولر ہو کامنا ہے مری

میرے سینے سے میرا دل ہی نہیں

دھڑکنوں کو بھی لے گیا ہے مری

پہلے زخموں پہ زخم دیتا ہے

اور پھر خیر مانگتا ہے مری

تیری دیوانی ساری دنیا ہے

تو مری ہی رہے دعا ہے مری

میرا ہندوستاں بدن ہے مرا

اور پنجاب آتما ہے مری

وہ بھی اپنے ہی من کا مالک ہے

میں سمجھتا تھا مانتا ہے مری