الجھا ہوا بہت ہے فسانہ حیات کا
Raakesh ulfat (b. 1961)الجھا ہوا بہت ہے فسانہ حیات کا
تم کیا سمجھ سکو گے بیاں میری ذات کا
کچھ بھی کہوں تو پہلے یہ رکھتا ہوں احتیاط
مطلب بدل نہ جائے کہیں میری بات کا
چھوٹا سا ایک لفظ محبت ہے اور کیا
حلقہ بڑا نہیں ہے مری کائنات کا
اچھا ہوا کہ ٹوٹ گئی تھی ہماری نیند
اب تک ہمیں ہے یاد برا خواب رات کا