جب جب انا کے ہاتھ میں پتوار آ گئی
Raakesh ulfat (b. 1961)جب جب انا کے ہاتھ میں پتوار آ گئی
کشتی ڈبونے والی کوئی دھار آ گئی
چہروں پہ اک عجیب سی لشکار آ گئی
جیسے ہی ایک ہاتھ میں اخبار آ گئی
جھگڑا تو احمقوں میں ہوا تھا مگر یہ کیا
دانشوروں کے درمیاں دیوار آ گئی
کچھ ذمے داریوں سے مرا ڈھیلا پن گیا
کچھ اپنے آپ گرمئ رفتار آ گئی
نفرت کا ایک نعرہ لگا تھا ہجوم میں
پھر ہر کسی کے ہاتھ میں تلوار آ گئی
مر تو نہیں گیا ہے کہیں آپ کا ضمیر
کیسے کسی کے پاؤں پہ دستار آ گئی
پہلے ہمارا بولنا کیسا تھا چھوڑیئے
اردو زبان سیکھ لی گفتار آ گئی