اک جنوں بے مثال چاہتا ہوں

Daood Mohsin (b. 1962)

اک جنوں بے مثال چاہتا ہوں

بس تمہارا خیال چاہتا ہوں

بے ارادہ جو تو نے بخشی تھی

وہ خوشی پھر بحال چاہتا ہوں

مضطرب ہو گئے ہیں زخم جگر

اک سکوں لازوال چاہتا ہوں

بس دکھی دل کا یہ مداوا ہے

لمحہ لمحہ وصال چاہتا ہوں

دور ماضی میں لے چلو مجھ کو

پھر وہی ماہ و سال چاہتا ہوں

سرخ روئی کے واسطے محسنؔ

اک ہنر با کمال چاہتا ہوں