جو سایہ سا منور تھا مرے ساجن کا تھوڑا تھا
Raakesh ulfat (b. 1961)جو سایہ سا منور تھا مرے ساجن کا تھوڑا تھا
مقدر یوں ابھی روشن مرے آنگن کا تھوڑا تھا
وہ میرا کچھ نہیں تھا پھر بھی مجھ کو یاد آتا ہے
ہمارے بیچ کا ناتا کسی بندھن کا تھوڑا تھا
اندھیرے میں تو شمشیریں ہی دیکھی جا سکیں لیکن
اجالے میں جو دیکھا تھا لہو دشمن کا تھوڑا تھا
تمہاری لکڑیاں پوری طرح سوکھی نہیں ہوں گی
اب ان کے جل نہ پانے میں قصور ایندھن کا تھوڑا تھا
جوانی کا تھا کچھ حصہ بڑھاپے کی بتاؤں کیا
میری بے تابیوں کا سلسلہ بچپن کا تھوڑا تھا