Poetry
Poet
Meter
- کہانی کچھ بھی نہیں تھی بیاں زیادہ تھاذرا سی آگ لگی تھی دھواں زیادہ تھاObaidur Rahman (1961–2014)
- گمرہی کا مری سامان ہوا جاتا ہےراستہ زیست کا آسان ہوا جاتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیںمسکراتی گل کھلاتی رونقیں اچھی لگیںObaidur Rahman (1961–2014)
- مسئلے میرے سبھی حل کر دےورنہ یا رب مجھے پاگل کر دےObaidur Rahman (1961–2014)
- منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگےہم کو کرنا ہے سفر قید مکاں سے آگےObaidur Rahman (1961–2014)
- نقاب چہرے سے میرے ہٹا رہی ہے غزلحصار ذات سے باہر بلا رہی ہے غزلObaidur Rahman (1961–2014)
- نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہےجنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- ہر شکن وقت کی پیشانی پہ رکھی ہوئی ہےہم نے یوں زندگی آسانی پہ رکھی ہوئی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- ہم برا کرتے یا بھلا کرتےسوچ کر کوئی فیصلہ کرتےObaidur Rahman (1961–2014)
- ہمیں تو گوشہ نشیں اور جہاں بھی ہونا ہےیہاں بھی ہونا ہے ہم کو وہاں بھی ہونا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- ہے آج اندھیرا ہر جانب اور نور کی باتیں کرتے ہیںنزدیک کی باتوں سے خائف ہم دور کی باتیں کرتے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
- یوں لگ رہا ہے جیسے گماں ٹوٹنے کو ہےیعنی حقیقتوں کا جہاں ٹوٹنے کو ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- آنگن آنگن خون کے چھینٹے چہرہ چہرہ بے چہرہکس کس گھر کا ذکر کروں میں کس کس کے صدمات لکھوںObaidur Rahman (1961–2014)
- اپنی ہی ذات کے محبس میں سمانے سے اٹھادرد احساس کا سینے میں دبانے سے اٹھاObaidur Rahman (1961–2014)
- بچوں کو ہم نہ ایک کھلونا بھی دے سکےغم اور بڑھ گیا ہے جو تہوار آئے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
- تلاشے جا رہے ہیں عہد رفتہزمینوں کی کھدائی ہو رہی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- ٹوٹتا رہتا ہے مجھ میں خود مرا اپنا وجودمیرے اندر کوئی مجھ سے برسر پیکار ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- جب دھوپ سر پہ تھی تو اکیلا تھا میں عبیدؔاب چھاؤں آ گئی ہے تو سب یار آئے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
- جہاں پہنچنے کی خواہش میں عمر بیت گئیوہیں پہنچ کے حیات اک خیال خام ہوئیObaidur Rahman (1961–2014)
- دکھاؤ صورت تازہ بیان سے پہلےکہانی اور ہے کچھ داستان سے پہلےObaidur Rahman (1961–2014)
- شوخی کسی میں ہے نہ شرارت ہے اب عبیدؔبچے ہمارے دور کے سنجیدہ ہو گئےObaidur Rahman (1961–2014)
- صحبت میں جاہلوں کی گزارے تھے چند روزپھر یہ ہوا میں واقف آداب ہو گیاObaidur Rahman (1961–2014)
- کوئی دماغ سے کوئی شریر سے ہارامیں اپنے ہاتھ کی اندھی لکیر سے ہاراObaidur Rahman (1961–2014)
- گھٹتی بڑھتی رہی پرچھائیں مری خود مجھ سےلاکھ چاہا کہ مرے قد کے برابر اترےObaidur Rahman (1961–2014)
- میرے جذبات آنسوؤں والےشعر سب ہچکیوں سے لکھتا ہوںObaidur Rahman (1961–2014)
- نظر میں دور تلک رہ گزر ضروری ہےکسی بھی سمت ہو لیکن سفر ضروری ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- ہمیں تو خواب کا اک شہر آنکھوں میں بسانا تھااور اس کے بعد مر جانے کا سپنا دیکھ لینا تھاObaidur Rahman (1961–2014)
- ہمیں ہجرت سمجھ میں اتنی آئیپرندہ آب و دانہ چاہتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- یہی اک سانحہ کچھ کم نہیں ہےہمارا غم تمہارا غم نہیں ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- آدھی آگ اور آدھا پانی ہم دونوںجلتی بجھتی ایک کہانی ہم دونوںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- اور کیا آخر تجھے اے زندگانی چاہیئےآرزو کل آگ کی تھی آج پانی چاہیئےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتےکیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- تمہارے ساتھ جو برتا ہوا ہےوہ لمحہ جس کا تس رکھا ہوا ہےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- چلتے رہنے کے لیے دل میں گماں کوئی تو ہوبے نتیجہ ہی سہی پر امتحاں کوئی تو ہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
- دے سکو تو زندگانی دو مجھےلفظ تو میں ہوں معانی دو مجھےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- رنگ دنیا کتنا گہرا ہو گیاآدمی کا رنگ پھیکا ہو گیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ستارے جن کی بہت دیکھ بھال کرتے رہےہم ایسی ساری شبوں کو نہال کرتے رہےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ضدوں کو اپنی تراشو اور ان کو خواب کروپھر اس کے بعد ہی منزل کا انتخاب کروMadan Mohan Danish (b. 1961)
- کچھ اس مقام سے اب دل کا کارواں گزرےیقیں کی حد سے جو گزرے تو بے زباں گزرےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- کوئی یہ لاکھ کہے میرے بنانے سے ملاہر نیا رنگ زمانہ کو پرانے سے ملاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ہر ایک لمحہ مری آگ میں گزارے کوئیپھر اس کے بعد مجھے عشق میں اتارے کوئیMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیںمگر اس میں زمانے لگ گئے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ہے انتظار مقدر تو انتظار کروپر اپنے دل کی فضا کو بھی خوش گوار کروMadan Mohan Danish (b. 1961)
- یہ مانا اس طرف رستہ نہ جائےمگر پھر بھی مجھے روکا نہ جائےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- آسماں کی نظر سے بچتے ہوئےاک ستارہ اٹھا لیا میں نےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- اچھی رونق ہے تمہاری بزم میںآ گئے سب شہر کے برباد کیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ادھر کیا کیا عجوبے ہو رہے ہیںمریض عشق اچھے ہو رہے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- جب اپنی بے کلی سے بے خودی سے کچھ نہیں ہوتاپکاریں کیوں کسی کو ہم کسی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- زندگی سے محبت کرو ٹوٹ کرموت کا کام دشوار کرتے رہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
- کوئی جب شہر سے جائے تو رونق روٹھ جاتی ہےکسی کی شہر میں موجودگی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)