Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کہانی کچھ بھی نہیں تھی بیاں زیادہ تھاذرا سی آگ لگی تھی دھواں زیادہ تھاObaidur Rahman (1961–2014)
  2. گمرہی کا مری سامان ہوا جاتا ہےراستہ زیست کا آسان ہوا جاتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  3. گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیںمسکراتی گل کھلاتی رونقیں اچھی لگیںObaidur Rahman (1961–2014)
  4. مسئلے میرے سبھی حل کر دےورنہ یا رب مجھے پاگل کر دےObaidur Rahman (1961–2014)
  5. منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگےہم کو کرنا ہے سفر قید مکاں سے آگےObaidur Rahman (1961–2014)
  6. نقاب چہرے سے میرے ہٹا رہی ہے غزلحصار ذات سے باہر بلا رہی ہے غزلObaidur Rahman (1961–2014)
  7. نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہےجنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  8. ہر شکن وقت کی پیشانی پہ رکھی ہوئی ہےہم نے یوں زندگی آسانی پہ رکھی ہوئی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  9. ہم برا کرتے یا بھلا کرتےسوچ کر کوئی فیصلہ کرتےObaidur Rahman (1961–2014)
  10. ہمیں تو گوشہ نشیں اور جہاں بھی ہونا ہےیہاں بھی ہونا ہے ہم کو وہاں بھی ہونا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  11. ہے آج اندھیرا ہر جانب اور نور کی باتیں کرتے ہیںنزدیک کی باتوں سے خائف ہم دور کی باتیں کرتے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
  12. یوں لگ رہا ہے جیسے گماں ٹوٹنے کو ہےیعنی حقیقتوں کا جہاں ٹوٹنے کو ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  13. آنگن آنگن خون کے چھینٹے چہرہ چہرہ بے چہرہکس کس گھر کا ذکر کروں میں کس کس کے صدمات لکھوںObaidur Rahman (1961–2014)
  14. اپنی ہی ذات کے محبس میں سمانے سے اٹھادرد احساس کا سینے میں دبانے سے اٹھاObaidur Rahman (1961–2014)
  15. بچوں کو ہم نہ ایک کھلونا بھی دے سکےغم اور بڑھ گیا ہے جو تہوار آئے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
  16. تلاشے جا رہے ہیں عہد رفتہزمینوں کی کھدائی ہو رہی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  17. ٹوٹتا رہتا ہے مجھ میں خود مرا اپنا وجودمیرے اندر کوئی مجھ سے برسر پیکار ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  18. جب دھوپ سر پہ تھی تو اکیلا تھا میں عبیدؔاب چھاؤں آ گئی ہے تو سب یار آئے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
  19. جہاں پہنچنے کی خواہش میں عمر بیت گئیوہیں پہنچ کے حیات اک خیال خام ہوئیObaidur Rahman (1961–2014)
  20. دکھاؤ صورت تازہ بیان سے پہلےکہانی اور ہے کچھ داستان سے پہلےObaidur Rahman (1961–2014)
  21. شوخی کسی میں ہے نہ شرارت ہے اب عبیدؔبچے ہمارے دور کے سنجیدہ ہو گئےObaidur Rahman (1961–2014)
  22. صحبت میں جاہلوں کی گزارے تھے چند روزپھر یہ ہوا میں واقف آداب ہو گیاObaidur Rahman (1961–2014)
  23. کوئی دماغ سے کوئی شریر سے ہارامیں اپنے ہاتھ کی اندھی لکیر سے ہاراObaidur Rahman (1961–2014)
  24. گھٹتی بڑھتی رہی پرچھائیں مری خود مجھ سےلاکھ چاہا کہ مرے قد کے برابر اترےObaidur Rahman (1961–2014)
  25. میرے جذبات آنسوؤں والےشعر سب ہچکیوں سے لکھتا ہوںObaidur Rahman (1961–2014)
  26. نظر میں دور تلک رہ گزر ضروری ہےکسی بھی سمت ہو لیکن سفر ضروری ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  27. ہمیں تو خواب کا اک شہر آنکھوں میں بسانا تھااور اس کے بعد مر جانے کا سپنا دیکھ لینا تھاObaidur Rahman (1961–2014)
  28. ہمیں ہجرت سمجھ میں اتنی آئیپرندہ آب و دانہ چاہتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  29. یہی اک سانحہ کچھ کم نہیں ہےہمارا غم تمہارا غم نہیں ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  30. آدھی آگ اور آدھا پانی ہم دونوںجلتی بجھتی ایک کہانی ہم دونوںMadan Mohan Danish (b. 1961)
  31. اور کیا آخر تجھے اے زندگانی چاہیئےآرزو کل آگ کی تھی آج پانی چاہیئےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  32. تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتےکیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  33. تمہارے ساتھ جو برتا ہوا ہےوہ لمحہ جس کا تس رکھا ہوا ہےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  34. چلتے رہنے کے لیے دل میں گماں کوئی تو ہوبے نتیجہ ہی سہی پر امتحاں کوئی تو ہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
  35. دے سکو تو زندگانی دو مجھےلفظ تو میں ہوں معانی دو مجھےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  36. رنگ دنیا کتنا گہرا ہو گیاآدمی کا رنگ پھیکا ہو گیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  37. ستارے جن کی بہت دیکھ بھال کرتے رہےہم ایسی ساری شبوں کو نہال کرتے رہےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  38. ضدوں کو اپنی تراشو اور ان کو خواب کروپھر اس کے بعد ہی منزل کا انتخاب کروMadan Mohan Danish (b. 1961)
  39. کچھ اس مقام سے اب دل کا کارواں گزرےیقیں کی حد سے جو گزرے تو بے زباں گزرےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  40. کوئی یہ لاکھ کہے میرے بنانے سے ملاہر نیا رنگ زمانہ کو پرانے سے ملاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  41. ہر ایک لمحہ مری آگ میں گزارے کوئیپھر اس کے بعد مجھے عشق میں اتارے کوئیMadan Mohan Danish (b. 1961)
  42. ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیںمگر اس میں زمانے لگ گئے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
  43. ہے انتظار مقدر تو انتظار کروپر اپنے دل کی فضا کو بھی خوش گوار کروMadan Mohan Danish (b. 1961)
  44. یہ مانا اس طرف رستہ نہ جائےمگر پھر بھی مجھے روکا نہ جائےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  45. آسماں کی نظر سے بچتے ہوئےاک ستارہ اٹھا لیا میں نےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  46. اچھی رونق ہے تمہاری بزم میںآ گئے سب شہر کے برباد کیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  47. ادھر کیا کیا عجوبے ہو رہے ہیںمریض عشق اچھے ہو رہے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
  48. جب اپنی بے کلی سے بے خودی سے کچھ نہیں ہوتاپکاریں کیوں کسی کو ہم کسی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  49. زندگی سے محبت کرو ٹوٹ کرموت کا کام دشوار کرتے رہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
  50. کوئی جب شہر سے جائے تو رونق روٹھ جاتی ہےکسی کی شہر میں موجودگی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)