Poetry
Poet
Meter
- دیکھنا ہو گر بنا کر کانچ کا گھر دیکھناکون برساتا ہے کس جانب سے پتھر دیکھناDaood Mohsin (b. 1962)
- زنداں میں ہوں میں شہر نگاراں سے کیا مجھےاس گلستاں کی باد بہاراں سے کیا مجھےDaood Mohsin (b. 1962)
- سمجھ رہے تھے کہ اپنی سدھر گئی دنیاہمیں تو مفت میں بدنام کر گئی دنیاDaood Mohsin (b. 1962)
- سہما ہے آسمان زمیں بھی اداس ہےہر گاؤں اور شہر میں خوف و ہراس ہےDaood Mohsin (b. 1962)
- ظہر عاشقی سے ڈرتا ہوںحسن کی برہمی سے ڈرتا ہوںDaood Mohsin (b. 1962)
- کیا بتاتے ہیں اشارات تمہیں کیا معلومکتنے مشکوک ہیں حالات تمہیں کیا معلومDaood Mohsin (b. 1962)
- کیسا اندھیر کر گیا سورججانے اب کس ڈگر گیا سورجDaood Mohsin (b. 1962)
- میں تمہارا اپنا ہوں آنکھ کھول کر دیکھواپنے دل کو اے جاناں تم ٹٹول کر دیکھوDaood Mohsin (b. 1962)
- میں نے کہا کہ دل میں تو ارمان ہیں بہتاس نے کہا کہ آپ تو نادان ہیں بہتDaood Mohsin (b. 1962)
- ہم سے لمحات خوشی کے بھی سنبھالے نہ گئےدرد پر درد اٹھے اور وہ ٹالے نہ گئےDaood Mohsin (b. 1962)
- اتنے فریب کھائے ہیں قربت میں یار کیمحسنؔ فریب اور بھی کھایا نہ جائے گاDaood Mohsin (b. 1962)
- افسانہ درد و غم کا سنایا نہ جائے گااب زخم دل کسی کو دکھایا نہ جائے گاDaood Mohsin (b. 1962)
- بات تیرے نام کی ہونے لگیدل میں میرے سنسنی ہونے لگیDaood Mohsin (b. 1962)
- رفاقتوں کا جہاں تار تار دیکھا ہےوجود زیست کا اڑتا غبار دیکھا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
- زخم دل داغ جگر داغ تمنا کی قسمچاند سے پھول سے ڈر ہم کو یہاں ہوتا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
- زندگی ٹوٹ کے بکھری ہے سر راہ ابھیحادثہ کہیے اسے یا کہ تماشا کہیےDaood Mohsin (b. 1962)
- سارے جہاں میں قصے یہ مشہور ہو گئےبھائی ہمارے منکر دستور ہو گئےDaood Mohsin (b. 1962)
- ضبط کی تھی شرط دل سے جانے کیوںلمحہ لمحہ بیکلی ہونے لگیDaood Mohsin (b. 1962)
- کتنا عجیب تر ہے عقیدہ جناب کاپتھر کی مورتوں سے وفا مانگ رہے ہوDaood Mohsin (b. 1962)
- کون اپنا ہے یہاں کون پرایا کہیےکون دیتا ہے بھلا دکھ میں سہارا کہیےDaood Mohsin (b. 1962)
- لمحہ لمحہ پکارے جاتے ہیںکون دل کے قریب آتے ہیںDaood Mohsin (b. 1962)
- مسندیں تخت و تاج دستاریںکون کس کے لئے لٹاتے ہیںDaood Mohsin (b. 1962)
- میں چاہتا ہوں تمہیں اپنی زندگی کی طرحمرے وجود پہ چھا جاؤ چاندنی کی طرحDaood Mohsin (b. 1962)
- نہیں ہے پاس کسی کا کسی کو اے محسنؔکہ آزما کہ انہیں بار بار دیکھا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
- ہر ایک شام سنور جائے گی مری محسنؔہر ایک بات تمہاری ہے شاعری کی طرحDaood Mohsin (b. 1962)
- ہر طرف درد کا آہوں کا سماں ہوتا ہےپانی جلتا ہے سمندر میں دھواں ہوتا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
- ادب سے عاری درندہ صفات لوگوں میںمیں بیٹھتا ہی نہیں واہیات لوگوں میںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- اس قدر غور سے نہ سن فعلنبحر ٹوٹی ہوئی ہے چن فعلنEjaaz tawakkal (b. 1962)
- بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیںکچھ خواب مرے عین جوانی میں مرے ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیںسکوت توڑنا ہو تو صدائیں لگتی ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- زمانے کی ستائی خودکشی ہےمحبت ابتدائی خودکشی ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- عشق جو والہانہ ہوتا ہےخود کو ہی آزمانا ہوتا ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- کاش کو لکھا ہے کاشا شکریہلفظ کو تم نے تراشا شکریہEjaaz tawakkal (b. 1962)
- کہتے ہیں جس کو عشق مرے بھائی جنگ ہےیہ دو دلوں کے بیچ علاقائی جنگ ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہےعشق بارودی سرنگوں کی طرح ہوتا ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- نیند کے دائرے میں حاضر ہوںخواب کے راستے میں حاضر ہوںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہےنئے کے بعد ہی کوئی پرانا ہوتا ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- ہو کے باریک مل رہی ہے مجھےہر خبر ویک مل رہی ہے مجھےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیںہوا درختوں کی داشتہ نئیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤںوہ کہے کیسے ہو تم اور میں رونے لگ جاؤںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہےاس ہجر کے گھاؤ کو ابھی سینا نہیں ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- بنا رہا ہوں میں فہرست چھوٹے لوگوں کیملال یہ کہ بڑے نام اس میں آتے ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- آنا جانا ہے تو قامت سے تم آؤ جاؤدر اظہار مروت سے تم آؤ جاؤRafi Raza (b. 1962)
- آنکھ سہمی ہوئی ڈرتی ہوئی دیکھی گئی ہےامن کی فاختہ مرتی ہوئی دیکھی گئی ہےRafi Raza (b. 1962)
- اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھامرا مزاج سوالات کرنے والا تھاRafi Raza (b. 1962)
- ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہےاس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہےRafi Raza (b. 1962)
- پیڑ سوکھا حرف کا اور فاختائیں مر گئیںلب نہ کھولے تو گھٹن سے سب دعائیں مر گئیںRafi Raza (b. 1962)
- خواب میں یا خیال میں مجھے ملتو کبھی خد و خال میں مجھے ملRafi Raza (b. 1962)
- رات میں شانۂ ادراک سے لگ کر سویابند کی آنکھ تو افلاک سے لگ کر سویاRafi Raza (b. 1962)
- زمیں کا بوجھ اور اس پر یہ آسمان کا بوجھاتار پھینک دوں کاندھوں سے دو جہان کا بوجھRafi Raza (b. 1962)