Poetry
Poet
Meter
- نیند کا رس فضا میں گھولو ہواے میاں کیا زبان بولو ہوTabish Mehdi (b. 1951)
- یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہےخوابوں کو پلکوں پہ سجانا کتنا اچھا لگتا ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہےلیکن کبھی میں نے اسے دیکھا بھی نہیں ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- تکوگے راہ سہاروں کی تم میاں کب تکقدم اٹھاؤ کہ تقدیر انتظار میں ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- پیار کی باتیں کب تک کیجئےدل کو زخم کہاں تک دیجئےQaleel Jhansvi (b. 1951)
- جب وہ جھگڑے مٹا چکے ہوں گےخون کتنا بہا چکے ہوں گےQaleel Jhansvi (b. 1951)
- خونچکاں دل کہاں کہاں ہارےداؤں والوں کے پیچ تھے نیارےQaleel Jhansvi (b. 1951)
- مجھ یاد آ رہا ہے کوئی آنسوؤں میں ڈھل کےکوئی آ گیا یہاں بھی مرے ساتھ ساتھ چل کےQaleel Jhansvi (b. 1951)
- چلو کہ زہر کے دریا کی سیر کی جائےاسے متھیں اور امرت کی کھوج کی جائےQaleel Jhansvi (b. 1951)
- خواب آسمانوں سےرینگتی چینٹی سی زندگیQaleel Jhansvi (b. 1951)
- روشنی سے بھرا اک شہر دیکھیےدل میں سارے اندھیرے چھپائے ہوئےQaleel Jhansvi (b. 1951)
- طویل راتخلوتQaleel Jhansvi (b. 1951)
- کچھ انتظار اور کرو صبر ناگوار اور کروکچھ اپنے سروں کو قلم گریباں کو چاک اور کروQaleel Jhansvi (b. 1951)
- گزرے ہوئے وقتوں سے نکل کر دیکھاآج کا دور علاحدہ تو نہیں ہےQaleel Jhansvi (b. 1951)
- مری یاد تم کو بھی آتی تو ہوگیگزشتہ محبت ستاتی تو ہوگیQaleel Jhansvi (b. 1951)
- شام کو چہچہاتیلوٹتی چڑیا کوQaleel Jhansvi (b. 1951)
- ان کے کہنے پہ لکھ رہے ہوتےہم بھی کیسٹ میں بج رہے ہوتےUrmilesh (1951–2005)
- پوری ہمت کے ساتھ بولیں گےجو سہی ہے وہ بات بولیں گےUrmilesh (1951–2005)
- تو جلا وہ بھی غلط تھا میں جلا یہ بھی غلطحوصلہ وہ بھی غلط تھا حوصلہ یہ بھی غلطUrmilesh (1951–2005)
- جب بھی اچھی زمین ڈھونڈھیں گےسب تری آستین ڈھونڈھیں گےUrmilesh (1951–2005)
- جی کر ہر موسم لکھتے ہیںہاں جی ہاں ہم کم لکھتے ہیںUrmilesh (1951–2005)
- حادثوں پر فدا ہو گئیزندگی کیا سے کیا ہو گئیUrmilesh (1951–2005)
- رشتوں کی بھیڑ میں بھی وہ تنہا کھڑا رہاندیاں تھی اس کے پاس وہ پیاسا کھڑا رہاUrmilesh (1951–2005)
- کل نہ بدلا وہ آج بدلے گاوقت اپنا مزاج بدلے گاUrmilesh (1951–2005)
- لوگ جس کو گنگنائیں آج کے ماحول میںوہ غزل کیسے سنائیں آج کے ماحول میںUrmilesh (1951–2005)
- وہ جو غزلوں کے استاد ہیں دوستوںکیا کہیں کتنے جلاد ہیں دوستوںUrmilesh (1951–2005)
- ہم نہ اردو میں نہ ہندی میں غزل کہتے ہیںہم تو بس آپ کی بولی میں غزل کہتے ہیںUrmilesh (1951–2005)
- یہ خبر بھی چھاپئے گا آج کے اخبار میںروح بھی بکنے لگی ہے جسم کے بازار میںUrmilesh (1951–2005)
- بڑھے کچھ اور کسی التجا سے کم نہ ہوئےمرے حریف تمہاری دعا سے کم نہ ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھےلہو لہو وہیں منظر انا کے رکھے تھےZafar Moradabadi (b. 1951)
- حرف تدبیر نہ تھا حرف دلاسہ روشنمیں جو ڈوبا تو ہوا ساحل دریا روشنZafar Moradabadi (b. 1951)
- خوش گماں ہر آسرا بے آسرا ثابت ہوازندگی تجھ سے تعلق کھوکھلا ثابت ہواZafar Moradabadi (b. 1951)
- رات بھر سورج کے بن کر ہم سفر واپس ہوئےشام بچھڑے ہم تو ہنگام سحر واپس ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- کبھی دعا تو کبھی بد دعا سے لڑتے ہوئےتمام عمر گزاری ہوا سے لڑتے ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیاکہ جیسے شب کا اندھیرا سحر پہ ڈال دیاZafar Moradabadi (b. 1951)
- نگاہ حسن مجسم ادا کو چھوتے ہیگنوائے ہوش بھی اس دل ربا کو چھوتے ہیZafar Moradabadi (b. 1951)
- ہر انتخاب یہاں ماضی و عقب کا ہےسوال میرا نہیں ہے مرے نسب کا ہےZafar Moradabadi (b. 1951)
- کیا خبر کس موڑ پر بکھرے متاع احتیاطپتھروں کے شہر میں ہوں آئینہ اوڑھے ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- اک پل بھی کہیں راحت و آرام نہیں ہےیہ عشق کا آغاز ہے انجام نہیں ہےGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- بدلا ہوا دنیا کا چلن دیکھ رہا ہوںتہذیب کے ماتھے پہ شکن دیکھ رہا ہوںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- دنیا کی جو خوشی تھی وہ غم سے بدل گئیشاید حیات عشق کے سانچے میں ڈھل گئیGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- دیکھ کر رنگ ان کی محفل کاہو گیا پست حوصلہ دل کاGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- روز دل کو مرے اک زخم نیا دیتے ہیںآپ کیا اپنا بنانے کی سزا دیتے ہیںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- زمانے بھر کو نئی تاب و تب دکھا نہ سکےوہ شخص کیا جو غموں میں بھی مسکرا نہ سکےGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- ہر موسم تپاں میں گل تر لٹائیےجب لوگ تشنہ لب ہوں سمندر لٹائیےGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیںاے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- ہم جو سارے جہان والے ہیںگم شدہ داستان والے ہیںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہےمیں تجھے یاد دہانی سے الگ رکھتا ہوںRaees Ansari (b. 1951)
- بیتے ہوئے لمحوں کو سوچا تو بہت رویاجب میں تری بستی سے گزرا تو بہت رویاRaees Ansari (b. 1951)
- تمام پھول سے چہروں کی سرخیاں اڑ جائیںاگر چمن سے یہ خوش رنگ تتلیاں اڑ جائیںRaees Ansari (b. 1951)