Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جو دیکھے تھے وہ سارے خواب رخصت ہو گئے ہیںہمارے سب ادب آداب رخصت ہو گئے ہیںRaees Ansari (b. 1951)
  2. کتنی سوئی ہوئی ٹیسوں کو جگاتی ہے ہواجب بھی پورب کی طرف سے کبھی آتی ہے ہواRaees Ansari (b. 1951)
  3. کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہےبزرگ زندہ رہیں آسماں رہے نہ رہےRaees Ansari (b. 1951)
  4. نیند آنکھوں میں جو آتی تو جگانے لگتےخواب بچوں کی طرح شور مچانے لگتےRaees Ansari (b. 1951)
  5. وہ رنجشیں وہ مراسم کا سلسلہ ہی نہیںیہاں کسی میں وہ پہلا سا رابطہ ہی نہیںRaees Ansari (b. 1951)
  6. ایک پتھر ہے مگر آئنہ خانے کتنےایک دیوانہ لگائے گا نشانے کتنےLateef Saani (b. 1951)
  7. تری یلغار سے دنیا بھی دہل سکتی ہےتو بدل جائے تو ہر چیز بدل سکتی ہےLateef Saani (b. 1951)
  8. مومن بنے تو قوم کا رہبر بنا دیاان پڑھ گنوار کو بھی گورنر بنا دیاLateef Saani (b. 1951)
  9. میں چپ رہوں تو بھی اندر پکارتا ہے کوئیمرے غرور کی پگڑی اتارتا ہے کوئیLateef Saani (b. 1951)
  10. دیدۂ بینا ہے تو ہوگی ہی جلوہ آشناقطرہ دریا آشنا تو صحرا ذرہ آشناNafees Bano (b. 1951)
  11. زندگی تو نے کبھی خود کو سنوارا بھی نہیںجھلملاتا ترے ماتھے پہ ستارا بھی نہیںNafees Bano (b. 1951)
  12. ماہیٔ ریگ ہوں گھر میرا سمندر کر دےموج در موج کی طغیانی مقدر کر دےNafees Bano (b. 1951)
  13. محبتوں میں ہتھیلی پہ لے کے سر آئےبلا کشان جنوں کیسے بے خطر آئےNafees Bano (b. 1951)
  14. جھیل کا درپن روز لجا کر بیل نہارا کرتی ہےپھر چپکے سے لپٹ پیڑ سے زلف سنوارا کرتی ہےKailash Sengar (b. 1951)
  15. گونگی چیخیں بانجھ بھوک اور اس بے بس سناٹے میںہم نے اپنی غزلیں کھوجیں چولھے چوکے آٹے میںKailash Sengar (b. 1951)
  16. محنت کے بعد بھی ملیں نفرت کی روٹیاںسب کے نصیب میں کہاں عزت کی روٹیاںKailash Sengar (b. 1951)
  17. پائی ہے تلخیوں سے یہ سرشار زندگیہر شخص چاہتا ہے چمکدار زندگیMadhukar Shaidai (b. 1951)
  18. کرتا غیروں کے تعمیر گھر آدمیکر کے فٹ پاتھ پر خود بسر آدمیMadhukar Shaidai (b. 1951)
  19. کمایا لٹایا بچایا نہیںمگر ایک پیسہ گنوایا نہیںMadhukar Shaidai (b. 1951)
  20. جو روایت کا منکر ہو آئےنقش ہائے بزرگاں مٹائےNadeem Siddiqui (b. 1951)
  21. دھرتی سے آکاش ملا دومجھ کو میرا آج پتا دوNadeem Siddiqui (b. 1951)
  22. گہرے سمندروں میں بالآخر اتر گئےخوش فہمیوں کا زہر پیا اور مر گئےNadeem Siddiqui (b. 1951)
  23. آنکھ ان کی نہیں دریچہ ہےاس دریچے میں خود کو دیکھا ہےQadeer Ayaz (b. 1951)
  24. جب سے تم آ گئے فسانے میںتذکرہ ہے مرا زمانے میںQadeer Ayaz (b. 1951)
  25. کی خطا پر بجا کیا میں نےتجھ کو جلوہ نما کیا میں نےQadeer Ayaz (b. 1951)
  26. آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوںاے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوںParveen Shakir (1952–1994)
  27. اب اتنی سادگی لائیں کہاں سےزمیں کی خیر مانگیں آسماں سےParveen Shakir (1952–1994)
  28. اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتےشام کے وقت سفر کیا کرتےParveen Shakir (1952–1994)
  29. اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرےکون ہوگا جو مجھے اس کی طرح یاد کرےParveen Shakir (1952–1994)
  30. اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوںاک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوںParveen Shakir (1952–1994)
  31. اپنی ہی صدا سنوں کہاں تکجنگل کی ہوا رہوں کہاں تکParveen Shakir (1952–1994)
  32. اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہےچلی چلوں گی جہاں تک یہ ساتھ رہتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  33. اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہےکنکر سا کوئی کھٹک رہا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  34. اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھامجھ میں تیرا جمال تھا کیا تھاParveen Shakir (1952–1994)
  35. اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوامگر یہ دل تری جانب سے صاف بھی نہ ہواParveen Shakir (1952–1994)
  36. الزام تھا دیے پہ نہ تقصیر رات کیہم نے تو بس ہوا کے تعلق سے بات کیParveen Shakir (1952–1994)
  37. ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھاآنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھاParveen Shakir (1952–1994)
  38. باب حیرت سے مجھے اذن سفر ہونے کو ہےتہنیت اے دل کہ اب دیوار در ہونے کو ہےParveen Shakir (1952–1994)
  39. بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنامیں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھناParveen Shakir (1952–1994)
  40. بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئےموسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئےParveen Shakir (1952–1994)
  41. بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیںشکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیںParveen Shakir (1952–1994)
  42. بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھااس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھاParveen Shakir (1952–1994)
  43. بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہےیہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہےParveen Shakir (1952–1994)
  44. بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کےہماری زندگی برباد کر کےParveen Shakir (1952–1994)
  45. پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کوندست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کونParveen Shakir (1952–1994)
  46. پورا دکھ اور آدھا چاندہجر کی شب اور ایسا چاندParveen Shakir (1952–1994)
  47. تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہےپھر موسم بہار مرے گلستاں میں ہےParveen Shakir (1952–1994)
  48. تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیاہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیاParveen Shakir (1952–1994)
  49. تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھیجی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھیParveen Shakir (1952–1994)
  50. تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھParveen Shakir (1952–1994)