Poetry
Poet
Meter
- جو دیکھے تھے وہ سارے خواب رخصت ہو گئے ہیںہمارے سب ادب آداب رخصت ہو گئے ہیںRaees Ansari (b. 1951)
- کتنی سوئی ہوئی ٹیسوں کو جگاتی ہے ہواجب بھی پورب کی طرف سے کبھی آتی ہے ہواRaees Ansari (b. 1951)
- کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہےبزرگ زندہ رہیں آسماں رہے نہ رہےRaees Ansari (b. 1951)
- نیند آنکھوں میں جو آتی تو جگانے لگتےخواب بچوں کی طرح شور مچانے لگتےRaees Ansari (b. 1951)
- وہ رنجشیں وہ مراسم کا سلسلہ ہی نہیںیہاں کسی میں وہ پہلا سا رابطہ ہی نہیںRaees Ansari (b. 1951)
- ایک پتھر ہے مگر آئنہ خانے کتنےایک دیوانہ لگائے گا نشانے کتنےLateef Saani (b. 1951)
- تری یلغار سے دنیا بھی دہل سکتی ہےتو بدل جائے تو ہر چیز بدل سکتی ہےLateef Saani (b. 1951)
- مومن بنے تو قوم کا رہبر بنا دیاان پڑھ گنوار کو بھی گورنر بنا دیاLateef Saani (b. 1951)
- میں چپ رہوں تو بھی اندر پکارتا ہے کوئیمرے غرور کی پگڑی اتارتا ہے کوئیLateef Saani (b. 1951)
- دیدۂ بینا ہے تو ہوگی ہی جلوہ آشناقطرہ دریا آشنا تو صحرا ذرہ آشناNafees Bano (b. 1951)
- زندگی تو نے کبھی خود کو سنوارا بھی نہیںجھلملاتا ترے ماتھے پہ ستارا بھی نہیںNafees Bano (b. 1951)
- ماہیٔ ریگ ہوں گھر میرا سمندر کر دےموج در موج کی طغیانی مقدر کر دےNafees Bano (b. 1951)
- محبتوں میں ہتھیلی پہ لے کے سر آئےبلا کشان جنوں کیسے بے خطر آئےNafees Bano (b. 1951)
- جھیل کا درپن روز لجا کر بیل نہارا کرتی ہےپھر چپکے سے لپٹ پیڑ سے زلف سنوارا کرتی ہےKailash Sengar (b. 1951)
- گونگی چیخیں بانجھ بھوک اور اس بے بس سناٹے میںہم نے اپنی غزلیں کھوجیں چولھے چوکے آٹے میںKailash Sengar (b. 1951)
- محنت کے بعد بھی ملیں نفرت کی روٹیاںسب کے نصیب میں کہاں عزت کی روٹیاںKailash Sengar (b. 1951)
- پائی ہے تلخیوں سے یہ سرشار زندگیہر شخص چاہتا ہے چمکدار زندگیMadhukar Shaidai (b. 1951)
- کرتا غیروں کے تعمیر گھر آدمیکر کے فٹ پاتھ پر خود بسر آدمیMadhukar Shaidai (b. 1951)
- کمایا لٹایا بچایا نہیںمگر ایک پیسہ گنوایا نہیںMadhukar Shaidai (b. 1951)
- جو روایت کا منکر ہو آئےنقش ہائے بزرگاں مٹائےNadeem Siddiqui (b. 1951)
- دھرتی سے آکاش ملا دومجھ کو میرا آج پتا دوNadeem Siddiqui (b. 1951)
- گہرے سمندروں میں بالآخر اتر گئےخوش فہمیوں کا زہر پیا اور مر گئےNadeem Siddiqui (b. 1951)
- آنکھ ان کی نہیں دریچہ ہےاس دریچے میں خود کو دیکھا ہےQadeer Ayaz (b. 1951)
- جب سے تم آ گئے فسانے میںتذکرہ ہے مرا زمانے میںQadeer Ayaz (b. 1951)
- کی خطا پر بجا کیا میں نےتجھ کو جلوہ نما کیا میں نےQadeer Ayaz (b. 1951)
- آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوںاے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوںParveen Shakir (1952–1994)
- اب اتنی سادگی لائیں کہاں سےزمیں کی خیر مانگیں آسماں سےParveen Shakir (1952–1994)
- اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتےشام کے وقت سفر کیا کرتےParveen Shakir (1952–1994)
- اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرےکون ہوگا جو مجھے اس کی طرح یاد کرےParveen Shakir (1952–1994)
- اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوںاک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوںParveen Shakir (1952–1994)
- اپنی ہی صدا سنوں کہاں تکجنگل کی ہوا رہوں کہاں تکParveen Shakir (1952–1994)
- اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہےچلی چلوں گی جہاں تک یہ ساتھ رہتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہےکنکر سا کوئی کھٹک رہا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھامجھ میں تیرا جمال تھا کیا تھاParveen Shakir (1952–1994)
- اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوامگر یہ دل تری جانب سے صاف بھی نہ ہواParveen Shakir (1952–1994)
- الزام تھا دیے پہ نہ تقصیر رات کیہم نے تو بس ہوا کے تعلق سے بات کیParveen Shakir (1952–1994)
- ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھاآنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھاParveen Shakir (1952–1994)
- باب حیرت سے مجھے اذن سفر ہونے کو ہےتہنیت اے دل کہ اب دیوار در ہونے کو ہےParveen Shakir (1952–1994)
- بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنامیں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھناParveen Shakir (1952–1994)
- بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئےموسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئےParveen Shakir (1952–1994)
- بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیںشکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیںParveen Shakir (1952–1994)
- بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھااس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھاParveen Shakir (1952–1994)
- بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہےیہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہےParveen Shakir (1952–1994)
- بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کےہماری زندگی برباد کر کےParveen Shakir (1952–1994)
- پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کوندست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کونParveen Shakir (1952–1994)
- پورا دکھ اور آدھا چاندہجر کی شب اور ایسا چاندParveen Shakir (1952–1994)
- تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہےپھر موسم بہار مرے گلستاں میں ہےParveen Shakir (1952–1994)
- تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیاہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیاParveen Shakir (1952–1994)
- تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھیجی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھیParveen Shakir (1952–1994)
- تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھParveen Shakir (1952–1994)