ہم جو سارے جہان والے ہیں
Gauhar Shaikh Purwi (b. 1951)ہم جو سارے جہان والے ہیں
گم شدہ داستان والے ہیں
کیوں نہ برسات میں ہوں خوفزدہ
وہ جو کچے مکان والے ہیں
ہم غریبوں سے کیوں نہیں ملتے
کیا وہ اونچی اڑان والے ہیں
ٹوٹی قبروں سے آ رہی ہے صدا
بے نشاں بھی نشان والے ہیں
ہم کو شوکیس میں سجا لیں گے
جب وہ اونچی دوکان والے ہیں
راہ میں وہ بھٹک نہیں سکتے
جو بڑی آن بان والے ہیں
موت سے بھی کہیں نہیں ڈرتے
ہم بڑی سخت جان والے ہیں
بند کمرے میں رہ نہیں سکتے
ہم کھلے سائبان والے ہیں
اونچے محلوں پہ ناز کیوں ہے تمہیں
ہم بھی تو آسمانوں والے ہیں
سوچ کر کوئی گفتگو کیجئے
در و دیوار کان والے ہیں
پیار شیوہ ہمارا ہے گوہرؔ
ہم بھی ہندوستان والے ہیں