زمانے بھر کو نئی تاب و تب دکھا نہ سکے
Gauhar Shaikh Purwi (b. 1951)زمانے بھر کو نئی تاب و تب دکھا نہ سکے
وہ شخص کیا جو غموں میں بھی مسکرا نہ سکے
ہم اپنے شہر میں رہتے ہیں اجنبی کی طرح
مگر یہ بات کسی کو بھی ہم بتا نہ سکے
گزرتے وقت کی مانند ہے آج کا انساں
صدائیں دے کے اسے ہم کبھی بلا نہ سکے
ضرور رنجش بے جا ہے آپ کو ہم سے
ملے گلے سے مگر دل کبھی ملا نہ سکے
تمہارے وعدے حسیں بھی تھے دل فریب بھی تھے
ہمارے گھر سے غریبی مگر ہٹا نہ سکے
جو بخشتے رہے دنیا کو نور کی دولت
وہ اپنے گھر میں کوئی شمع تک جلا نہ سکے
رہے ہیں گوہرؔ نایاب کی طرح لیکن
ہم اپنے آپ کو شوکیس میں سجا نہ سکے