Poetry
Poet
Meter
- لبوں پر پیاس ہو تو آس کے بادل بھرے رکھیوسرابوں کے سفر میں اس طرح گلشن ہرے رکھیوIbrahim Ashk (b. 1951)
- مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھوجلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھوIbrahim Ashk (b. 1951)
- محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہواوہ شخص کتنا زمانے میں یادگار ہواIbrahim Ashk (b. 1951)
- مشعل بکف کبھی تو کبھی دل بدست تھامیں سیل تیرگی میں تجلی پرست تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
- میں کب رہین ریگ بیابان یاس تھاصد خیمۂ بہار مرے آس پاس تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
- نہ کوئے یار میں ٹھہرا نہ انجمن میں رہاادائے ناز سے یہ دل سرائے فن میں رہاIbrahim Ashk (b. 1951)
- محفل یاراں میں دیوانوں کا عالم کچھ نہ پوچھجام ہاتھوں میں اٹھائیں تو چھلکنا چاہیےIbrahim Ashk (b. 1951)
- نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہےہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دےIbrahim Ashk (b. 1951)
- اس کو جانے دے اگر جاتا ہےزہر کم ہو تو اتر جاتا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میںگر پڑا ہاتھ سے آئینہ پریشانی میںFaisal Ajmi (b. 1951)
- ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھےکچھ دن پہلے تک تو سب کے تیور اچھے تھےFaisal Ajmi (b. 1951)
- تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوستکتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوستFaisal Ajmi (b. 1951)
- حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہےپیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میںروشنی میں بدل رہا ہوں میںFaisal Ajmi (b. 1951)
- رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیےآنکھیں بھی چاہیے دل بینا بھی چاہیےFaisal Ajmi (b. 1951)
- شامیانوں کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہےآج خیرات ہے دعوت تو نہیں کی گئی ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھےاٹھا کے اگلے زمانے میں رکھ لیا ہے مجھےFaisal Ajmi (b. 1951)
- گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتےکرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتےFaisal Ajmi (b. 1951)
- مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیاسورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیاFaisal Ajmi (b. 1951)
- میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیامعاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیاFaisal Ajmi (b. 1951)
- میں غار میں تھا اور ہوا کے بغیر تھااک روز آفتاب ضیا کے بغیر تھاFaisal Ajmi (b. 1951)
- ہجر موجود ہے فسانے میںسانپ ہوتا ہے ہر خزانے میںFaisal Ajmi (b. 1951)
- ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہےمہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیامیرا سوال خلق خدا تک نہیں گیاFaisal Ajmi (b. 1951)
- عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہےمحبتوں کو کوئی بد دعا لگی ہوئی ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- ایک نہ اک دیوار سرکتی رہتی ہےگھر کی چھت ہر رت میں ٹپکتی رہتی ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- برف سے لڑتا تھا میرے پاس پانی کیوں نہیںاب سوال اٹھتا ہے دریا میں روانی کیوں نہیںParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- تو جب گھر سے چلا جاتا ہےپیچھے رہ بھی کیا جاتا ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- جو زندگی کے سب سے حسیں موڑ پر ملاوہ شخص پھر نہ مجھ کو کبھی عمر بھر ملاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- خدا کی بے رخی پر رو رہی ہےدعا مجھ سے لپٹ کر رو رہی ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- ساون میں گھبرا جاتا ہےدل میرا صحرا جاتا ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سفر میں دھوپ ہے تو سائبان بھی ہوگازمین ہوگی جہاں آسمان بھی ہوگاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سمندر آنکھ سے اوجھل ذرا نہیں ہوتاندی کو ڈر کسی چٹان کا نہیں ہوتاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سمندر میں کھڑے ہو رو رہے ہویہ کیسی میلی چادر دھو رہے ہوParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سینے پر رکھ ہجرت کا پتھر چپ چاپگھر میں رہ اور چھوڑ دے اپنا گھر چپ چاپParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- کوئی خوشبو نہ پھول ہوں میں توسر سے پا تک ببول ہوں میں توParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- موسم سوکھے پیڑ گرانے والا تھاکسی کسی میں پھول بھی آنے والا تھاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- میں ریت کا محل ہوں مرے پاسباں درختسینے پہ روک لیتے ہیں سب آندھیاں درختParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- حویلیاں بھی ہیں کاریں بھی کارخانے بھیبس آدمی کی کمی دیکھتا ہوں شہروں میںParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دےنشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کیخدا ہر ایک کو اپنا پتہ نہیں دیتاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئیسوز یقیں کی بزم سجاتا نہیں کوئیTabish Mehdi (b. 1951)
- اور سمت سفر راستہ اور ہےعہد حاضر کا شاید خدا اور ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھناکسی دربار سے رشتے نہ رکھناTabish Mehdi (b. 1951)
- جہان دل میں سناٹا بہت ہےسمندر آج کل پیاسا بہت ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کیامیر شہر سے یاری نہیں کیTabish Mehdi (b. 1951)
- دشت تنہائی بادل ہوا اور میںروز و شب کا یہی سلسلا اور میںTabish Mehdi (b. 1951)
- روشنی آدمی تیرگی آدمیزندگی آدمی موت بھی آدمیTabish Mehdi (b. 1951)
- کچھ تو دنیا سے کما لے جائیےہم فقیروں کی دعا لے جائیےTabish Mehdi (b. 1951)
- کنایتاً بھی ترا نام جب سنا میں نےوفور شوق میں سر کو جھکا دیا میں نےTabish Mehdi (b. 1951)