Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. لبوں پر پیاس ہو تو آس کے بادل بھرے رکھیوسرابوں کے سفر میں اس طرح گلشن ہرے رکھیوIbrahim Ashk (b. 1951)
  2. مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھوجلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھوIbrahim Ashk (b. 1951)
  3. محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہواوہ شخص کتنا زمانے میں یادگار ہواIbrahim Ashk (b. 1951)
  4. مشعل بکف کبھی تو کبھی دل بدست تھامیں سیل تیرگی میں تجلی پرست تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
  5. میں کب رہین ریگ بیابان یاس تھاصد خیمۂ بہار مرے آس پاس تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
  6. نہ کوئے یار میں ٹھہرا نہ انجمن میں رہاادائے ناز سے یہ دل سرائے فن میں رہاIbrahim Ashk (b. 1951)
  7. محفل یاراں میں دیوانوں کا عالم کچھ نہ پوچھجام ہاتھوں میں اٹھائیں تو چھلکنا چاہیےIbrahim Ashk (b. 1951)
  8. نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہےہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دےIbrahim Ashk (b. 1951)
  9. اس کو جانے دے اگر جاتا ہےزہر کم ہو تو اتر جاتا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
  10. اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میںگر پڑا ہاتھ سے آئینہ پریشانی میںFaisal Ajmi (b. 1951)
  11. ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھےکچھ دن پہلے تک تو سب کے تیور اچھے تھےFaisal Ajmi (b. 1951)
  12. تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوستکتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوستFaisal Ajmi (b. 1951)
  13. حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہےپیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
  14. دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میںروشنی میں بدل رہا ہوں میںFaisal Ajmi (b. 1951)
  15. رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیےآنکھیں بھی چاہیے دل بینا بھی چاہیےFaisal Ajmi (b. 1951)
  16. شامیانوں کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہےآج خیرات ہے دعوت تو نہیں کی گئی ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
  17. کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھےاٹھا کے اگلے زمانے میں رکھ لیا ہے مجھےFaisal Ajmi (b. 1951)
  18. گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتےکرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتےFaisal Ajmi (b. 1951)
  19. مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیاسورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیاFaisal Ajmi (b. 1951)
  20. میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیامعاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیاFaisal Ajmi (b. 1951)
  21. میں غار میں تھا اور ہوا کے بغیر تھااک روز آفتاب ضیا کے بغیر تھاFaisal Ajmi (b. 1951)
  22. ہجر موجود ہے فسانے میںسانپ ہوتا ہے ہر خزانے میںFaisal Ajmi (b. 1951)
  23. ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہےمہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
  24. یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیامیرا سوال خلق خدا تک نہیں گیاFaisal Ajmi (b. 1951)
  25. عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہےمحبتوں کو کوئی بد دعا لگی ہوئی ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
  26. ایک نہ اک دیوار سرکتی رہتی ہےگھر کی چھت ہر رت میں ٹپکتی رہتی ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  27. برف سے لڑتا تھا میرے پاس پانی کیوں نہیںاب سوال اٹھتا ہے دریا میں روانی کیوں نہیںParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  28. تو جب گھر سے چلا جاتا ہےپیچھے رہ بھی کیا جاتا ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  29. جو زندگی کے سب سے حسیں موڑ پر ملاوہ شخص پھر نہ مجھ کو کبھی عمر بھر ملاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  30. خدا کی بے رخی پر رو رہی ہےدعا مجھ سے لپٹ کر رو رہی ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  31. ساون میں گھبرا جاتا ہےدل میرا صحرا جاتا ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  32. سفر میں دھوپ ہے تو سائبان بھی ہوگازمین ہوگی جہاں آسمان بھی ہوگاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  33. سمندر آنکھ سے اوجھل ذرا نہیں ہوتاندی کو ڈر کسی چٹان کا نہیں ہوتاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  34. سمندر میں کھڑے ہو رو رہے ہویہ کیسی میلی چادر دھو رہے ہوParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  35. سینے پر رکھ ہجرت کا پتھر چپ چاپگھر میں رہ اور چھوڑ دے اپنا گھر چپ چاپParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  36. کوئی خوشبو نہ پھول ہوں میں توسر سے پا تک ببول ہوں میں توParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  37. موسم سوکھے پیڑ گرانے والا تھاکسی کسی میں پھول بھی آنے والا تھاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  38. میں ریت کا محل ہوں مرے پاسباں درختسینے پہ روک لیتے ہیں سب آندھیاں درختParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  39. حویلیاں بھی ہیں کاریں بھی کارخانے بھیبس آدمی کی کمی دیکھتا ہوں شہروں میںParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  40. زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دےنشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  41. کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کیخدا ہر ایک کو اپنا پتہ نہیں دیتاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
  42. اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئیسوز یقیں کی بزم سجاتا نہیں کوئیTabish Mehdi (b. 1951)
  43. اور سمت سفر راستہ اور ہےعہد حاضر کا شاید خدا اور ہےTabish Mehdi (b. 1951)
  44. بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھناکسی دربار سے رشتے نہ رکھناTabish Mehdi (b. 1951)
  45. جہان دل میں سناٹا بہت ہےسمندر آج کل پیاسا بہت ہےTabish Mehdi (b. 1951)
  46. خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کیامیر شہر سے یاری نہیں کیTabish Mehdi (b. 1951)
  47. دشت تنہائی بادل ہوا اور میںروز و شب کا یہی سلسلا اور میںTabish Mehdi (b. 1951)
  48. روشنی آدمی تیرگی آدمیزندگی آدمی موت بھی آدمیTabish Mehdi (b. 1951)
  49. کچھ تو دنیا سے کما لے جائیےہم فقیروں کی دعا لے جائیےTabish Mehdi (b. 1951)
  50. کنایتاً بھی ترا نام جب سنا میں نےوفور شوق میں سر کو جھکا دیا میں نےTabish Mehdi (b. 1951)