خونچکاں دل کہاں کہاں ہارے

Qaleel Jhansvi (b. 1951)

خونچکاں دل کہاں کہاں ہارے

داؤں والوں کے پیچ تھے نیارے

چاندنی کا خیال تھا ورنہ

تھے بغاوت پہ چاند سے تارے

ایک آنسو سمجھ کے پونچھا تھا

خون چہرے پہ مل گیا سارے

ٹھیلے ٹھیلے پڑا رہا سونا

لوگ مٹی پہ جٹ گئے سارے

تھی خبر شام ان کے آنے کی

آسماں پر تھے رات بھر تارے

ٹوٹ کر کل بکھر گئے پھر سے

ذکر پر ان کے آنکھ بھر تارے

کم محبت کی آگ مت سمجھو

کٹ گئے کوہ بہہ گئے دھارے