ہر موسم تپاں میں گل تر لٹائیے

Gauhar Shaikh Purwi (b. 1951)

ہر موسم تپاں میں گل تر لٹائیے

جب لوگ تشنہ لب ہوں سمندر لٹائیے

کہتا ہے حرف دوستی اب بھی پکار کے

گھر میں کسی کے آپ نہ پتھر لٹائیے

محلوں میں قہقہوں کی ہے برسات روز و شب

خوشیاں کبھی تو میرے بھی در پر لٹائیے

جب آپ ہو کے شہر فروزاں سے آئے ہیں

تاریکیوں میں نور کی چادر لٹائیے

احباب چاٹ جائیں گے دیمک کی شکل میں

اب دولت خلوص بھی بچ کر لٹائیے

ذہنوں کو تازہ کار بنانے کے واسطے

شعر و سخن کے پھول برابر لٹائیے

گوہرؔ ہے بے بساط ابھی شہر فکر میں

اک دن متاع علم بھی اس پر لٹائیے