Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئےشعر لکھوں تو یہ تاثیر غزل میں آئےGhayas Anjum (b. 1950)
  2. ساز حیات قید و سلاسل کہیں کسےجب دل ہی بجھ گیا ہو تو پھر دل کہیں کسےGhayas Anjum (b. 1950)
  3. لپٹ رہی ہیں جو تجھ سے دعائیں میری ہیںہوا کا شور نہیں ہے صدائیں میری ہیںGhayas Anjum (b. 1950)
  4. ہجوم درد ملا امتحان ایسا تھامگر وہ چپ ہی رہا بے زبان ایسا تھاGhayas Anjum (b. 1950)
  5. ہم نے جب چاہا کوئی آگ بجھانے آئےآئے تو لوگ مگر دل کو جلانے آئےGhayas Anjum (b. 1950)
  6. اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گایہ راہ عشق مرا حوصلہ ہی طے کرے گاTahseen Firaqi (b. 1950)
  7. بہت سے سیل حوادث کی زد پہ بہہ گئے ہیںیہ چند ایک درختان سبز رہ گئے ہیںTahseen Firaqi (b. 1950)
  8. تری گلی میں گئے کتنے ماہ و سال ہوئےگزر گئے کئی موسم ہمیں بحال ہوئےTahseen Firaqi (b. 1950)
  9. چمن اتنا خزاں آثار پہلے کب ہوا تھابلا کا قحط برگ و بار پہلے کب ہوا تھاTahseen Firaqi (b. 1950)
  10. مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہےحادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہےTahseen Firaqi (b. 1950)
  11. مہ و انجم نے قبا کی تو تمہارے لیے کیچاند چہروں پہ ردا کی تو تمہارے لیے کیTahseen Firaqi (b. 1950)
  12. میں ہر ایک بات کہاں کہاں نہیں بھولتامگر ایک شام فراق جاں نہیں بھولتاTahseen Firaqi (b. 1950)
  13. خبر وحشت اثر تھیاسے ایسے لگاTahseen Firaqi (b. 1950)
  14. مری خلوت کے ہالے میں تمہارا یہ طلسماتی بدناک نور میں ڈوبا ہوا بہتا ہوا دھاراTahseen Firaqi (b. 1950)
  15. ہمارے ذہن کی اس عرش پیمائی کے کیا کہنےہم اپنے ذہن کے بارے میں جب بھی سوچتے ہیںTahseen Firaqi (b. 1950)
  16. جو بجھ گئے انہیں کو چراغوں کا نام دوبے چہرگی کو اپنی گلابوں کا نام دوLateef Ahmad Subhani (b. 1950)
  17. عکس در عکس ہے چہروں کی نموداری سےآئنہ دیکھتے ہیں لوگ بھی بے زاری سےLateef Ahmad Subhani (b. 1950)
  18. لگ گئے برسوں جوابات بتانے کے لئےان خرافات کو گھر گھر سے ہٹانے کے لئےLateef Ahmad Subhani (b. 1950)
  19. نہ کوئی خواب ہوگا اور نہ خوابوں کا جہاں ہوگاکوئی دل میں نہیں ہوگا تو دل خالی مکاں ہوگاLateef Ahmad Subhani (b. 1950)
  20. بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیارہ و رسم محبت چھوڑ دی کیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  21. پھر وہی بے دلی پھر وہی معذرتبس بہت ہو چکا زندگی معذرتLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  22. تلخیٔ مے تلخئ حالات کی توہین ہےنشے میں سچ بولنا سچ بات کی توہین ہےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  23. تو نہ تھا تیری تمنا دیکھنے کی چیز تھیدل نہ مانا ورنہ دنیا دیکھنے کی چیز تھیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  24. خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگےآ نکل جائیں شب وہم و گماں سے آگےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  25. دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤ گے کیاایک دن گھر نہیں جاؤ گے تو مر جاؤ گے کیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  26. ریزہ ریزہ ہوئے یوں صبح کے آثار کہ بسایسے خوابوں پہ چلائی گئی تلوار کہ بسLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  27. سخن سخن وہی گویا دکھائی دیتا ہےقبائے سرخ میں کیا ہے کہ دیکھتے رہئےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  28. صورت موج سمندر میں کہاں سے آیامیں مسافر کی طرح گھر میں کہاں سے آیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  29. عاجز تھا بے عجز نبھائی رسم جدائی میں نے بھیاس نے مجھ سے ہاتھ چھڑایا جان چھڑائی میں نے بھیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  30. عدو کا ذکر نہیں دوستوں کا نام نہیںزباں پہ آج کوئی حرف انتقام نہیںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  31. عشق بار دگر ہوا ہی نہیںدل لگایا تھا دل لگا ہی نہیںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  32. کشت امید بارور نہ ہوئیلاکھ سورج اگے سحر نہ ہوئیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  33. کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیامجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  34. کہیں ایسا نہ ہو دامن جلا لوہمارے آنسوؤں پر خاک ڈالوLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  35. کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کراب تک کھڑے ہوئے ہیں وہیں ہاتھ جوڑ کرLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  36. کیسی مہک کہاں کا کوئی پھول باغ میںبس رنگ بے وفائی ہے مقبول باغ میںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  37. کئی عکس ماہ تمام تھے مجھے کھا گئےوہ جو خواب سے لب بام تھے مجھے کھا گئےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  38. محراب خوش قیام سے آگے نکل گئیخوشبو دیے کی شام سے آگے نکل گئیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  39. ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائےوہ اپنے گھر نہ سہی مجھ کو میرے گھر لے جائےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  40. نہ اب مجھ کو صدا دو تھک گیا میںتمہی جاؤ ارادو تھک گیا ہوںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  41. ہجر سے مرحلۂ زیست عدم ہے ہم کوفاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ کم ہے ہم کوLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  42. ہجر ہجرت سے سوا ہو گیا گھر آتے ہیمیں تو خود سے بھی جدا ہو گیا گھر آتے ہیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  43. آج کل میرے تصرف میں نہیں ہے لیکنزندگی شہر میں ہوگی کہیں دو چار کے پاسLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  44. بہت ضخیم کتابوں سے چن کے لایا ہوںانہیں پڑھو ورق انتخاب ہیں مرے دوستLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  45. بے بسی کا زہر سینے میں اتر جاتا ہے کیامیں جسے آواز دیتا ہوں وہ مر جاتا ہے کیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  46. دور تک ساتھ چلا ایک سگ آوارہآج تنہائی کی اوقات پہ رونا آیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  47. زمانوں بعد ملے ہیں تو کیسے منہ پھیروںمرے لیے تو پرانی شراب ہیں مرے دوستLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  48. قیامت تک رہے گی روح آبادمحبت ہے تو ہم زندہ رہیں گےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  49. کشمکش ناخن و دنداں کی تھمے تو پھر میںگل آئینہ سے کھینچوں رگ حیرانی کوLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
  50. کیسا ہجوم کوچۂ تنہائی تھا کہ میںآگے بڑھا نہ دست و گریباں ہوئے بغیرLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)