ہجر سے مرحلۂ زیست عدم ہے ہم کو

Liyaqat Ali Aasim (1951–2019)

ہجر سے مرحلۂ زیست عدم ہے ہم کو

فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ کم ہے ہم کو

سائے سے اٹھ کے ابھی دھوپ میں جا بیٹھیں گے

گھر سے صحرا تو فقط ایک قدم ہے ہم کو

پا بہ جولاں ترے کوچے میں بھی کھینچے لائے

شحنۂ شہر سے امید کرم ہے ہم کو

قحط معمورۂ صورت سے ہیں پتھر آنکھیں

اب خدا بھی نظر آئے تو صنم ہے ہم کو

دیکھ کیا آئنہ بے جنبش لب کہتا ہے

جو خموشی سے ہو وہ بات اہم ہے ہم کو

بے یقینی کو یقیں ہے کہ ہوا کچھ بھی نہیں

اور اک حادثہ آنکھوں کا بھرم ہے ہم کو

ہم کہاں اور کہاں کوچۂ غالبؔ عاصمؔ

جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو