بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیا
Liyaqat Ali Aasim (1951–2019)بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیا
رہ و رسم محبت چھوڑ دی کیا
یہ کیا اندر ہی اندر بجھ رہے ہو
ہواؤں سے رقابت چھوڑ دی کیا
مناتے پھر رہے ہو ہر کسی کو
خفا رہنے کی عادت چھوڑ دی کیا
لیے بیٹھی ہیں آنکھیں آنسوؤں کو
ستاروں کی سیاحت چھوڑ دی کیا
غبار دشت کیوں بیٹھا ہوا ہے
مرے آہو نے وحشت چھوڑ دی کیا
یہ دنیا تو نہیں مانے گی عاصمؔ
مگر تم نے بھی حجت چھوڑ دی کیا