میں ہر ایک بات کہاں کہاں نہیں بھولتا
Tahseen Firaqi (b. 1950)میں ہر ایک بات کہاں کہاں نہیں بھولتا
مگر ایک شام فراق جاں نہیں بھولتا
وہ جو روز دیتا تھا صبح نو کی بشارتیں
وہ ہوا کا موجہ مہرباں نہیں بھولتا
وہ جسے بھلا کے مجھے تھا خود کو تلاشنا
وہی ایک شاہد گل رخاں نہیں بھولتا
وہ جو چرخ جاں پہ بس ایک پل کو جلا بجھا
وہی اک شہاب شرر نشاں نہیں بھولتا
کبھی خواب میں کبھی رتجگوں کے عذاب میں
وہ ستارۂ سر کہکشاں نہیں بھولتا