Poetry
Poet
Meter
- ہمارے گھر کا عجیب و غریب منظر ہےکہیں تو آگ لگی ہے کہیں سمندر ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- اس سے ملتا ہوںتو یوں محسوس ہوتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- مجھے کیا خبر تھیکہ تم میری انگلی پکڑ کر چلو گیZafar Zaidi (1950–1983)
- مہرباں ساعت نےاپنی گود میںZafar Zaidi (1950–1983)
- میں اپنی آنکھوں کو کھو چکا جبتو راستوں کا سوال آیاZafar Zaidi (1950–1983)
- میں جب بھی اکیلا ہوتا ہوںدل میرا مجھ سے کہتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- میں کل راتاس شہر کی اس سڑک پر گیاZafar Zaidi (1950–1983)
- اٹھوجاؤ فوراً نہاؤZafar Zaidi (1950–1983)
- ایک دن چھٹی کا یوں گزراکہ مجھ کو دکھ گئے ساتوں طبقZafar Zaidi (1950–1983)
- عجیب لڑکی ہے وہکہ اس کو خدا بنایا تو وہ خفا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- میں آندھیوں کی سیاہ یلغار سے بچا بھیتو اپنی منزل نہ پا سکوں گاZafar Zaidi (1950–1983)
- ہماری دسترس میں کیا ہے کیا نہیںزمیں نہیںZafar Zaidi (1950–1983)
- اس کی شباہت کسی شمس و قمر میں نہیںایک اسے دیکھ کر کوئی نظر میں نہیںSabiha Saba (b. 1950)
- اک تری یاد سے یادوں کے خزانے نکلےذکر تیرا بھی بھی محبت کے بہانے نکلےSabiha Saba (b. 1950)
- اگر نہیں ہے اجازت سوال مت کرنااور اپنے دل میں زیادہ ملال مت کرناSabiha Saba (b. 1950)
- بظاہر رونقوں میں بزم آرائی میں جیتے ہیںحقیقت ہے کہ ہم تنہا ہیں تنہائی میں جیتے ہیںSabiha Saba (b. 1950)
- تو نہیں ہے تو مری شام اکیلی چپ ہےیاد میں دل کی یہ ویران حویلی چپ ہےSabiha Saba (b. 1950)
- جان گئے تو مان لیایوں تجھ کو پہچان لیاSabiha Saba (b. 1950)
- جب کبھی حادثات نے مارایوں لگا کائنات نے ماراSabiha Saba (b. 1950)
- جو بھی ہوگا وار دیکھا جائے گاغم نہ کر غم خوار دیکھا جائے گاSabiha Saba (b. 1950)
- حادثوں کی دنیا میں کون کس کو روتا ہےیاد کر کے دکھ اپنے خون دل کا ہوتا ہےSabiha Saba (b. 1950)
- درست ہے کہ یہ دن رائیگاں نہیں گزرےمگر سکوں سے تو اے جان جاں نہیں گزرےSabiha Saba (b. 1950)
- دل میں آ جا دل بر سائیںسونا تجھ بن یہ گھر سائیںSabiha Saba (b. 1950)
- عجب سی بے کلی سے چور کوئیکچھ اپنے دل سے ہے مجبور کوئیSabiha Saba (b. 1950)
- غموں سے اپنے کوئی شخص چور ہوتا ہےکسی کے دل میں خوشی کا غرور ہوتا ہےSabiha Saba (b. 1950)
- قلم کو اس لئے تلوار کرناکہ بڑھ کے ظلم پر ہے وار کرناSabiha Saba (b. 1950)
- نہیں جانے ہے وہ حرف ستائش برملا کہنامگر نظروں ہی نظروں میں وہ اس کا واہ وا کہناSabiha Saba (b. 1950)
- یہ دل کی داستان ہے کہ دل غلام کر دیاعجیب لوگ آپ ہیں عجیب کام کر دیاSabiha Saba (b. 1950)
- یہ سیل اشک مجھے گفتگو کی تاب تو دےجو یہ کہوں کہ وفا کا مری حساب تو دےSabiha Saba (b. 1950)
- افق پہ دودھیا سایہ جو پاؤں دھرنے لگامہیب رات کا شیرازہ ہی بکھرنے لگاP P Srivastava Rind (b. 1950)
- اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھےاجالے سیر پر نکلے ہوئے تھےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- اندھیرے ڈھونڈنے نکلے کھنڈر کیوںخدا جانے ہوئے یہ در بدر کیوںP P Srivastava Rind (b. 1950)
- ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گےہم مشکوک نظر سے دیکھے جائیں گےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہواگھر میں لا وارث پس منظر کا سناٹا ہواP P Srivastava Rind (b. 1950)
- پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھےہم ہی تھے مال غنیمت ہم ہی غارت گر بھی تھےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہےچاند کی قندیل جلتے ہی اجالا ہو گیا ہےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- روشنی بھر خلا پہ بار تھے ہمدھند منظر پس غبار تھے ہمP P Srivastava Rind (b. 1950)
- فضا میں کرب کا احساس گھولتی ہوئی راتہوس کی کھڑکیاں دروازے کھولتی ہوئی راتP P Srivastava Rind (b. 1950)
- مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کمبستی میں بچ گئے تھے مکاں کم بہت ہی کمP P Srivastava Rind (b. 1950)
- ممتا بھری نگاہ نے روکا تو ڈر لگاجب بھی شکار زین سے باندھا تو ڈر لگاP P Srivastava Rind (b. 1950)
- نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہےفضا کے برگ شفق پر بھی تازگی کم ہےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئےپھر مری آنکھوں کو پہرے داریاں دے دیجئےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیاوحشت میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو کیاP P Srivastava Rind (b. 1950)
- خواہشوں کی آنچ میں تپتے بدن کی لذتیں ہیںاور وحشی رات ہے گمراہیاں سر پر اٹھائےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- بے نیاز بہار سا کیوں ہےدل کو زخموں سے پیار سا کیوں ہےGhayas Anjum (b. 1950)
- پہنچ کر شب کی سرحد پر اجالا ڈوب جاتا ہےنہ ہو جس کا کوئی وہ بے سہارا ڈوب جاتا ہےGhayas Anjum (b. 1950)
- تجھے میں بھول جانا چاہتا ہوںیوں دل کو آزمانا چاہتا ہوںGhayas Anjum (b. 1950)
- چھپا ہے کرب مسلسل ہوا کے لہجے میںکوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میںGhayas Anjum (b. 1950)
- خسارے میں رہے لیکن نہ چھوڑی سادگی ہم نےبہ ہر صورت نبھائی دشمنوں سے دوستی ہم نےGhayas Anjum (b. 1950)
- خون دل مجھ سے ترا رنگ حنا مانگے ہےیا ہتھیلی پہ کوئی نقش وفا مانگے ہےGhayas Anjum (b. 1950)