سخن سخن وہی گویا دکھائی دیتا ہے
Liyaqat Ali Aasim (1951–2019)سخن سخن وہی گویا دکھائی دیتا ہے
قبائے سرخ میں کیا ہے کہ دیکھتے رہئے
وہ ہر لباس میں اچھا دکھائی دیتا ہے
بہت قریب نہ آؤ میں آئنہ ہی سہی
بہت قریب سے دھندلا دکھائی دیتا ہے
یہ کیا ستم ہے کہ بستی کے ایک ہی گھر میں
کئی گھروں کا اجالا دکھائی دیتا ہے
کوئی خیال نہ صورت نہ ذائقہ نہ پکار
بس ایک وہم گزرتا دکھائی دیتا ہے
خزاں کی دھوپ میں میں نے کہا نہ تھا کہ مجھے
ہرا بھرا کوئی سایہ دکھائی دیتا ہے
کسی کے ہاتھ میں کاسہ نہیں مگر عاصمؔ
ہر ایک ہاتھ میں کاسہ دکھائی دیتا ہے