ہجر ہجرت سے سوا ہو گیا گھر آتے ہی
Liyaqat Ali Aasim (1951–2019)ہجر ہجرت سے سوا ہو گیا گھر آتے ہی
میں تو خود سے بھی جدا ہو گیا گھر آتے ہی
ایسے سوئے ہیں کہ مرتا بھی نہ ہوگا کوئی
جاگتے رہنا بلا ہو گیا گھر آتے ہی
میں گنہ گار سفر تھا مجھے کیا نیند آتی
میں تو مصروف دعا ہو گیا گھر آتے ہی
میں نے سوچا تھا کہ گھر جا کے منا لوں گا اسے
دل تو کچھ اور خفا ہو گیا گھر آتے ہی
ایک دستک کا بڑا قرض تھا مجھ پر عاصمؔ
اور وہ قرض ادا ہو گیا گھر آتے ہی