عشق بار دگر ہوا ہی نہیں

Liyaqat Ali Aasim (1951–2019)

عشق بار دگر ہوا ہی نہیں

دل لگایا تھا دل لگا ہی نہیں

ایک سے لوگ ایک سی باتیں

گھر بدلنے کا فائدہ ہی نہیں

ہم جہاں بھی گئے پلٹ آئے

کوئی تیری طرح ملا ہی نہیں

ڈھونڈ لاتے وہیں سے دل لیکن

پھر وہ میلہ کہیں لگا ہی نہیں

اس طرح ٹوکتا ہوں اوروں کو

جیسے میں جھوٹ بولتا ہی نہیں

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا

اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں