کیسی مہک کہاں کا کوئی پھول باغ میں

Liyaqat Ali Aasim (1951–2019)

کیسی مہک کہاں کا کوئی پھول باغ میں

بس رنگ بے وفائی ہے مقبول باغ میں

آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے نکلنا پڑا مجھے

اک یاد نے اڑائی بہت دھول باغ میں

تتلی کو ڈھلتے دیکھنا جگنو کے روپ میں

میرا یہی ہے روز کا معمول باغ میں

جانے وہ حسن تھا کہ ہوس تھی نگاہ میں

ہر چہرہ لگ رہا تھا مجھے پھول باغ میں

عاصمؔ رسالہ ہائے گل و برگ و بار دیکھ

قدرت نے کھول رکھا ہے اسکول باغ میں